آنے والوں کی خاطر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمندر کا پانی ۔۔۔ سمندر کا بہتا ہُوا نیلگوں سردپانی بلاتا ہے مجھ کو سمندر۔۔۔ ازل جس کی لہروں میں رقصاں سمندر۔۔۔ ابد گیر جس کے کنارے سمندر کا پانی بلاتا ہے مجھ کو، مَیں اک ریگ ِساحل کا رہرو جومدفون شہروں کی تہہ سے نکالا گیا سب پرانے زمانوں کے قِصّوں نئے دَور کے قصہ خوانوں کے لب پر ہے میری ستائش مَیں اِک ریگِ ساحل کا رہرو، یہ بنجار نیں۔۔۔ یہ ہوائوں کی نو خیز صحرائی بنجارنیں میری پیغام بر میرے دمسازوغمخوار روشن…
Read MoreMonth: 2021 فروری
مدحت الاختر ۔۔۔ چاندنی رات کا مجرم ہے سزا دو اس کو
چاندنی رات کا مجرم ہے سزا دو اس کو بند کمرے میں وہ سویا ہے جگا دو اس کو کیوں بھٹکتا ہے بھرے شہر کی سڑکوں پہ عبث آبلہ پا ہے وہ صحرا کا پتا دو اس کو جب بہار آئے گی ہر پھول سنہرا ہو گا درد سونا ہے زمینوں میں دبا دو اس کو پیرہن بھیگ چکا میرے خیالوں کا بہت اپنے جلتے ہوئے پیکر پہ سُکھا دو اس کو وہ اکیلا ہی تو اس دشتِ تمنا میں نہیں اس کا سایہ بھی جھلستا ہے دکھا دو اس…
Read Moreاحمد حسین مجاہد … جو دل میں ہے وہ لب ِ چشم ِ تر نہیں آیا
جو دل میں ہے وہ لب ِ چشم ِ تر نہیں آیا میں خواب لے کے سر ِ رہگزر نہیں آیا لپٹ گیا صف ِ اعدا میں گھس کے یار سے میں وہ زعم تھا مجھے لشکر نظر نہیں آیا میں دے رہا ہوں سرھانے کو طول بازو سے ابھی ترا مرے سینے پہ سر نہیں آیا اسی لیے تو یہ بستی ہے نا مراد بہت کسی کے کام کوئی وقت پر نہیں آیا میں جل کے راکھ ہوا عشق میں مگر مجھ پر کوئی بھی لمحہ ٔ نامعتبر نہیں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ ہر آنکھ جہاں رونقِ گلزار طلب ہے
ہر آنکھ جہاں رونقِ گلزار طلب ہے رہبر سے وہاں حسن بھی کردار طلب ہے تہذیب نہ ڈھونڈوکہ ابھی فطرتِ آدم ہر طور یہاں در ہم ودینار طلب ہے اب شوق نے آنکھیں بھی تو دہلیز پہ رکھ دیں پُر نم یہ مرا دیدۂ دیدار طلب ہے احسان کرے آ کے کوئی ایک عدوآج یہ آبلہ پائی مری اب خار طلب ہے آزار نہ بن جائے یہاں زیست ہراک سانس دکھ اور کا ہو اور سے ایثار طلب ہے اے خانہ بدوشو! ہے ہواؤں کو تردّد تہذیب تو رہنے کو…
Read Moreعدنان محسن
بھلے وہ ہونٹ مرے نام پر لرزنے لگیں مگر وہ آنکھیں مجھے دیکھ کر اداس نہ ہوں
Read Moreنعمان فاروق ۔۔۔ دریا کی عریانی پر
دریا کی عریانی پر رقص کریں گے پانی پر ہم نے لفظ نہیں لکھے پیاس لکھی ہے پانی پر طنز کیا ہے خوشبو نے پھولوں کی نادانی پر پانی جملے کستا ہے دریا کی ویرانی پر کوئی نوحہ لکھ ڈالیں لفظوں کی ارزانی پر
Read Moreفرحان کبیر ۔۔۔ بولنے کو چار جملے رہ گئے تھے
بولنے کو چار جملے رہ گئے تھے اب وہاں کشتی کے ٹکڑے رہ گئے تھے پُھول سرشاری میں گرتے رہ گئے تھے لوگ آوازوں سے پیچھے رہ گئے تھے اُس کی یادوں کے پرندے ساتھ آ کر ڈُوبتی کشتی میں بیٹھے رہ گئے تھے گرتے ہی گلدان زخمی ہو گئی شام میز پر دو پُھول مہکے رہ گئے تھے اُس نے ایسا لفظ تختی پر لکھا تھا سب کے سب اِملائیں کرتے رہ گئے تھے بینچ کے ٹوٹے ہوئے بازو سے بچ کر لوگ تیزی سے گزرتے رہ گئے تھے…
Read Moreدلاور علی آزر … یوں دیدۂ خوں بار کے منظر سے اُٹھا مَیں
یوں دیدۂ خوں بار کے منظر سے اُٹھا مَیں طوفان اُٹھا مجھ میں سمندر سے اُٹھا مَیں اُٹھنے کے لیے قصد کیامَیں نے بَلا کا اب لوگ یہ کہتے ہیں مقدر سے اُٹھا مَیں پہلے تو خد و خال بنائے سرِ قرطاس پھر اپنے خد و خال کے اندر سے اُٹھا مَیں اِک اور طرح مجھ پہ کُھلی چشمِ تماشا اِک اور تجلی کے برابر سے اُٹھا مَیں ہے تیری مری ذات کی یکتائی برابر غائب سے تُو اُبھرا تو میسّر سے اُٹھا مَیں تو نے مری سوئی ہوئی تقدیر…
Read Moreحنیف ترین ۔۔۔ سمٹتی شام اگر درد کو جگائے گی
سمٹتی شام اگر درد کو جگائے گی تو صبح نوحۂ معتوب گنگنائے گی میں ہنس پڑوں گا تو پھر کسمسا اٹھے گی فضا ہوائے تند مری لو جو گدگدائے گی نمو میں موج بنے گی تمازت فردا ردائے تیرگی جتنے قدم بڑھائے گی زمین گائے گی آم اور جامنوں کے گیت برستی بدلی وہ سر تال آزمائے گی جہاں پہ چاند زمیں سے لپٹ کے مہکے گا نشے میں چاندنی گیت اپنے گنگنائے گی زمیں ستارے فلک ایک ہوں گے گردش میں رتیں وہ ایسی اگر اپنے ساتھ لائے گی…
Read Moreحفیظ اللہ بادل
اسے پکارنے میں دیر ہو گئی مجھ سے وگرنہ یہ مرا سایہ تھا اور یہ میں تھا
Read More