راستے روشن ہیں، آثارِ سفر معدوم ہیں بستیاں موجود ہیں، دیوار و در ملتے نہیں
Read MoreMonth: 2021 مارچ
احسان دانش
جتنے اربابِ جنوں اتنے ہی اندازِ فغاں ایک سے ایک کی ملتی نہیں آواز کبھی
Read Moreحفیظ تائب
مثلِ سحر لطیف تو مانندِ شب عمیق شعلہ کبھی صبا کبھی شبنم کبھی غزل
Read Moreجمال احسانی
اس سرائے میں نہ پھیلائیے اجزائے حیات جانے کس وقت یہ سامان اٹھانا پڑ جائے
Read Moreفطرت انصاری ۔۔۔ دل کی بے تابی یہاں تک آ گئی
جوش ملیح آبادی
دور اندیش مریضوں کی یہ عادت دیکھی ہر طرف دیکھ لیا جب تری صورت دیکھی
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
جب سے آنکھوں میں کھٹکنے لگی ریت میرے صحراؤں میں وُسعت نہ رہی
Read Moreفیض احمد فیض
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
Read Moreحنیف ترین ۔۔۔ سانپ کا سایہ خواب مرے ڈس جاتا ہے
سانپ کا سایہ خواب مرے ڈس جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سانپ کا سایہ خواب مرے ڈس جاتا ہے کتنی دفعہ تو بڑھا، رکا میں اس کی جانب صدیوں وہ مہکا کر میرا ظاہر و باطن کئی یگوں تک، اس نے مجھ کو یاد کیا اور کہا یہ، ندی ہوں میں ناؤ بنو تم ڈولو مجھ پر جھوم اٹھو تن کی چاندی سونا پا کر لیکن میرے جسم کے ویرانے سے کوئی ہر دم مجھ کو تاک رہا ہے تن سے آگے من نگری میں جھانک رہا ہے نیند نشے کے گیان…
Read Moreحنیف ترین ۔۔۔ اس کے گلابی ہونٹ تو رس میں بسے لگے
اس کے گلابی ہونٹ تو رس میں بسے لگے لیکن بدن کے ذائقے بے کیف سے لگے ٹوٹے قدم قدم پہ جو اپنی لچک کے ساتھ وہ دلدلوں میں ذات کی مجھ کو پھنسے لگے تمثیل بن گئے ہیں سمندر کی جھاگ کی صحرائے غم کی راکھ میں جو بھی دھنسے لگے جن کا یقین راہِ سکوں کی اساس ہے وہ بھی گمان دشت میں مجھ کو پھنسے لگے ہم لے کے بے امانی کو جنگل میں آ گئے دل کو جو شہر ِخوباں میں کچھ وسوسے لگے
Read More