ذرا تو دیکھو کہ کس حال میں ہیں میرے رقیب کہ اب نگاہ نہ ڈالو گے تم اُدھر بھی کیا؟ جواب دِہ نہ ہوئے ہم کہیں بھی تیرے بعد کہ سچ تو یہ ہے ہمیں تھا کسی کا ڈر بھی کیا تمام سلسلسے ان گیسوؤں کے ساتھ گئے ردائے ابر بھی کیا، سایۂ شجر بھی کیا! جھلستی خاک پہ تنہا پڑا ہے برگِ امید ہوا کا اس لُٹے رستے سے اب گزر بھی کیا! کھلے فراغ سے اک روز ہم سے آ مل بیٹھ کبھی کبھی کی ملاقاتِ مختصر بھی…
Read MoreMonth: 2021 مارچ
بانی ۔۔۔۔۔ گِرد میرے نہ فصیلیں ترے کام آئیں گی
گِرد میرے نہ فصیلیں ترے کام آئیں گی کچھ ہوائیں تو مری سمت مدام آئیں گی یہ مسافت کہ چلی جائے گی رستہ رستہ منزلیں یوں تو نئی گام بہ گام آئیں گی کچھ تو دل آپ ہی بجھتا سا چلا جاتا ہے اورکیا کیا نہ ہوائیں سرِ شام آئیں گی اِس اندھیرے میں نہ اک گام بھی رکنا یارو اب تو اک دوسرے کی آہٹیں کام آئیں گی بین کرتی ہوئی سمتوں سے نہ ڈرنا بانی اتنی آوازیں تو اس راہ میں عام آئیں گی
Read Moreبانی ۔۔۔۔۔ رنگ لپک سے عاری جسم، ادا سے خالی
رنگ لپک سے عاری جسم، ادا سے خالی یہ کیسی بستی ہے، عکسِ ہَوا سے خالی یوں نکلا ہوں گھر سے، گھر کے ہر منظر سے کچھ ٹوٹے اوپر سے، ہونٹ دُعا سے خالی پچھلے پہر نے بڑھ کر میری چیخ سمیٹی کاسۂ شب تھا شاید ایک صدا سے خالی اب کے چلی وہ آندھی، لمحۂ روشن غائب دن سنگھرش سے عاری، رات خدا سے خالی
Read Moreبانی ۔۔۔ اگر باقی کوئی رشتہ رہے گا
اگر باقی کوئی رشتہ رہے گا ترے جی کو بھی کچھ دکھ سا رہے گا چلو رسمِ وفا ہم بھی اُٹھا دیں کوئی دن شہر میں چرچا رہے گا نہ جائے گا کبھی دل سے ترا غم یہ جوگی دشت میں بیٹھا رہے گا ترے خستہ مزاجوں کو ہمیشہ جنوں ترکِ محبّت کا رہے گا یہ دشتِ دل ہے، کوئی آئے یا جائے برابر ایک سنّاٹا رہے گا ہوائے یاس کا ہلکا سا جھونکا ترے آنے سے پہلے آ رہے گا ہم اک دن خود سے غافل ہو رہیں گے…
Read Moreمحمد مختار علی ۔۔۔۔۔۔ آسماں تھے مگر زمیں ٹھہرے
آسماں تھے مگر زمیں ٹھہرے اپنا آزار خود ہمیں ٹھہرے کون ہم سے فریب کھائے کہ ہم! وہم کی طرح کا یقیں ٹھہرے کیا کِیا جائے دوستوں سے گریز ! سب کے سب زیبِ آستیں ٹھہرے سب مری آنکھ سے اگر دیکھیں کون اُس کی طرح حسیں ٹھہرے کِس کے در پر رُکے یہ گردشِ شوق! کِس کے پائوں پہ یہ جبیں ٹھہرے پائیے کس سے دادِ حُسنِ کلام! یار جتنے تھے نکتہ چیں ٹھہرے کون رُخصت کرے انھیں مختار دِل محلے کے جو مکیں ٹھہرے
Read Moreابوطالب انیم ۔۔۔۔۔۔۔ رہے گا کب تک یہ رقص بے جان پتھروں پر
رہے گا کب تک یہ رقص بے جان پتھروں پر کوئی گرائے عمود حیرت کے دائروں پر مرے لیے عرش پر کوئی جال بن رہا ہے بہت سی آنکھیں لگی ہوئی ہیں مرے پروں پر کھلی ہوئی کھڑکیوں سے رستے لٹک رہے تھے ہمارے پہرے کہ بس جمے رہ گئے دروں پر ابھی تو پایاب ہے تمھارا چناب پانی سو پھر رہے ہیں اٹھا کے ہم کشتیاں سروں پر گذر چکے ہیں ہزار ہا قافلے یہاں سے سو دیکھیے کیا، ہے گرد ہی گرد منظروں پر انیم تہذیب گنگ غاروں…
Read Moreابوطالب انیم ۔۔۔ میں جس طرف بھی گیا اس طرف ہی کونا تھا
میں جس طرف بھی گیا اس طرف ہی کونا تھا مجھے ہوا میں بھی گوشہ نشین ہونا تھا میں اپنی جاں سے نہ گر کھیلتا تو کیا کرتا کہ میرے پاس یہی آخری کھلونا تھا میں خالی آنکھ سے تکتا رہا خدا کی طرف تب اس نے رو کے بتایا مجھے،کہ رونا تھا پھر ایک روز وہ جھیل آکے مجھ سے کہنے لگی کنول کھلایا ہی کیوں تھا اگر ڈبونا تھا نچوڑنے پہ جو اب گرد جھڑرہی ہے تو پھر خیال آیا کہ دامن کو بھی بھگونا تھا مجھے تو…
Read Moreطارق بٹ ۔۔۔ اپنے تئیں کیا صفا، سجایا نہیں
اپنے تئیں کیا صفا، سجایا نہیں دل کو وہ ، آئنہ بنایا نہیں تخلیہ، تخلیہ، پکارا میں سب گئے، تو بھی، آ : سمایا نہیں چشم و دامانِ دل و دستِ دعا کیا تھا، کشکول جو بنایا نہیں درِ دل پر، غضب تھی وہ دستک بس: زمیں، آسماں ہلایا نہیں اس نے ارزاں کیا خیال اپنا میں، ہنر کچھ بھی تو کمایا نہیں دل ہی دل میں ہوئی ہیں سب باتیں لب کو میں حرف آشنایا نہیں تیری دوری کو میں جو قُرب کیا فاصلہ، گل کوئی…
Read Moreآنکھوں کی قبروں کے باسی ۔۔۔ یونس متین
آنکھوں کی قبروں کے باسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدائوں کی اوندھی پڑی میّتو ں پر یہ نوحہ کناں یہ شکستہ دلوں کی قطاریں یہ خوابوں کے اونٹوںکی لمبی قطاریں کہ تپتی ہوئی ریت میں جل بجھے جن کے پائوں ابھی تک نگاہیں اُٹھائے ہوئے آسماںکی طرف دیکھتی ہیں (جہاں آسماں کے سوا کچھ نہیں ہے) یہ ٹوٹے ہوئے خواب آنکھوںکی قبروں کے باسی یہ اوندھی پڑی میّتوں کے ہمیشہ کے یہ نوحہ گر اپنی اپنی رسالت اُٹھائے ہوئے اپنے اپنے خرابوں کے شہروں کی جانب رواں تربۂ شامِ تنہائی میں جن کی…
Read Moreسورج گرہن ۔۔۔ عاصم خورشید
سورج گرہن ۔۔۔۔۔۔۔۔ چاند کی اوٹ سے سورج ہم کو جھانک رہا تھا اُس کے سر کا، ست رنگی کرنوں کا تاج انوکھا تھا ہم نے بھی تو چاند کی اوٹ سے دیکھا جانے کتنے برسوں میں کل اُس نے چاند کی اوٹ میں چُھپ کے پسینہ اپنی جبیں سے پونچھا تُو تو مسلسل بِنا اوٹ کے روزِ الست سے مجھ کو دیکھ رہا ہے میں نے بھی کل بِنا دھوپ کے دن میں پسینہ اپنی جبیں سے پونچھا
Read More