تو ہے مُلا تری بلا جانے عاشقی میں جو کچھ کہ ہوتا ہے
Read MoreMonth: 2021 مارچ
مبشر سعید ۔۔۔ برائے نقشِ منور شریک ہوتا ہے
برائے نقشِ منور شریک ہوتا ہے سُخن میں سوچ کا جوہر شریک ہوتا ہے نبیﷺ کا ذکر وہ ذکرِ عظیم ہے جس میں مرا خدا بھی برابر شریک ہوتا ہے خمار خانہِ دنیا فضول ہے، صاحب! تو اس فریب میں کیوں کر شریک ہوتا ہے؟ اُسے خیال ہے یعنی تمام باتوں کا خوشی غمی میں جو اکثر شریک ہوتا ہے قضا کے ساتھ ہمیشہ مکالمے میں سعید جو سر پھرا ہو وہ بہتر شریک ہوتا ہے
Read Moreمیرزا جواں بخت جہاندار شاہ
مرے واسطے مت اٹھا ہاتھ زاہد کہ تیری دعا کا اثر جائے گا
Read Moreحفیظ تائب
آپ کیوں ہنسنے لگے ہیں بے طرح میں تو سودائی ہوا پاگل ہوا
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے
دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے تیرا پیار بھی کم نکلا اندازے سے تم جو میری بات سنے بن چل دیتے رات لپٹ کر رو دیتا دروازے سے رنجِ سکوں تو ترکِ وفا کا حصہ تھا سوچ کے کتنے پھول کھلے خمیازے سے آنکھیں پیار کی دھوپ سے جھلسی جاتی ہیں روشن ہے اب چہرہ درد کے غازے سے تیرا دُکھ تو ایک لڑی تھا خوشیوں کی تار الگ یہ کس نے کیا شیرازے سے کتنے سموں کے شعلوں پر اک خواب جلے کتنی یادیں سر پھوڑیں دروازے سے…
Read Moreاعجاز گل ۔۔۔ باغ کی رنگت سنہری رُت خزانی سے ہوئی
باغ کی رنگت سنہری رُت خزانی سے ہوئی کیمیا یہ خاک اپنی رایگانی سے ہوئی حل ہوا ہے مسئلہ یوں باہمی تفہیم سے گفتِ اوّل کی درستی گفتِ ثانی سے ہوئی رہ گیا کردار باقی یا مرا اخراج ہے بات کچھ واضح نہیں اب تک کہانی سے ہوئی بعد میں دیگر عوامل نے بنائی تھی جگہ اصل میں تو یہ زمیں تشکیل پانی سے ہوئی ہوں مکینِ بے سکونت کتنے رفت و حال کا منقسم یہ ذات ہر نقلِ زمانی سے ہوئی کب سے رکھا جا رہا ہوں درمیانِ وصل…
Read Moreاعجازاحمدفکرال ۔۔۔ چیخ
چیخ ۔۔۔ سارہ کا تعلق آرتھوڈوکس فیملی سے تھا۔ آج ڈیوٹی سے فارغ ہو کر اس نے گھر جانے کے لیے اپنے چھوٹے بھائی کو ٹیلی فون کرکے بلا لیا تھا۔کڑاکے کی سردی تھی۔ رات کے اندھیرے میں کوری دھند چھا رہی تھی۔ وہ شادمان چوک میں بھائی کے ساتھ کھڑی کسی سواری کا انتظار کر رہی تھی۔ کچھ دنوں سے پاشا اور اس کے دوستوں کے دماغوں میں بلیو فلمیں دیکھنے کی وجہ سے نسوانی قرب کا بھوسہ بھر چکا تھا۔ پاشا گناہ کا پرانا کھلاڑی تھا۔ اس نے…
Read Moreبورخیس/محمد عاصم بٹ ۔۔۔ شاخ دار راستوں والا باغ
شاخ دار راستوں والا باغ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڈل ہارٹ کی ’’تاریخ جنگ عظیم‘‘ کے صفحہ ۲۴۲ پر آپ کو لکھا ملے گا کہ ۲۴ جولائی ۱۹۱۶ء کو سیرے مونٹا بن سرحدپرتیرہ برطانوی ڈویژنوں (جن کے ہمراہ ۱۴ سو توپیں بھی تھیں) کے حملے کا منصوبہ بنایاگیا جسے بعدازاں ۲۹ جولائی کی صبح تک موخر کر دیا گیا۔ کیپٹن لڈل ہارٹ کے مطابق اس التواء کا سبب غیر متوقع تند بارشیں تھیں۔ایک تاخیر جیسا کہ ثابت ہوا، جس سے کہیں کوئی فرق نہیں پڑا۔ درج ذیل عبارت جسے تسنگ تائو میں ہوشیول…
Read Moreاصغر گونڈوی
نالوں سے میں نے آگ لگا دی جہان میں صیاد جانتا تھا فقط مشتِ پر مجھے
Read Moreعارف عبدالمتین
مجھے ہے شب خوں کی فکر لیکن انھیں ہلاکت کا ڈر نہیں ہے مرے قبیلے کے لوگ سوتے ہیں اور شب بھر میں جاگتا ہوں
Read More