سرور فرحان ۔۔۔ کس نے آزادی کا مضموں لکھ دیا دیوار پر

کس نے آزادی کا مضموں لکھ دیا دیوار پر
خون کے چھینٹے نظر آنے لگے دستار پر

آ ہی جاتی ہیں لبوں پر دل میں پنہاں تلخیاں
جتنی بھی پابندیاں عائد رہیں اظہار پر

زندگی میں اور بھی ہیں کام، اے جانِ غزل!
یہ نظر رہتی نہیں پیہم لب و رخسار پر

سچ کہا تو داد دینے کے لیے کوئی نہ تھا
جھوٹ جب بولا تو شہ سرخی بنا اخبار پر

عشق کو تو ہر طرح ہے بے کلی کا سامنا
وصل کے اقرار سے وہ آ گیا انکار پر

پھینکتے ہو کس لیے اب تم فضاؤں میں مجھے؟
کر دئیے جب کاٹ کر تم نے مرے بیکار پر

کاٹ کر رکھ دیں نہ عالم سے ہمیں یہ ایک دن
سو چکے ہیں ہم بھروسہ کر کے جن اغیار پر

ماحصل کیا بے خبر سے کر کے شکوہ درد کا ؟
بات بڑھ جائے گی فرحاں اس قدر تکرار پر

Related posts

Leave a Comment