سرور فرحان ۔۔۔ یہ الگ بات کہ ہر پل مجھے ٹالا ہو گا

یہ الگ بات کہ ہر پل مجھے ٹالا ہو گا پھر بھی ہر شعر ترے ہجر کا نالہ ہو گا آج بھی بھوکے ہی مزدُور کے بچے سوئے کل پہ اُجرت کو کسی شخص نے ٹالا ہو گا تجھ کو کیا علم بچھڑتے ہو ئے تجھ سے میں نے کیسے کیسے دلِ مُضطر کو سنبھالا ہو گا کر کے رُسوا مجھے صحرا میں جو لے آئی ہے زندگی یہ بھی ترے بُغض کا چالا ہو گا ظلم دیکھیں گے مگر بول نہیں پائیں گے یوں سبھی لوگوں کے ہونٹوں پہ…

Read More

سرور فرحان ۔۔۔ کس نے آزادی کا مضموں لکھ دیا دیوار پر

کس نے آزادی کا مضموں لکھ دیا دیوار پر خون کے چھینٹے نظر آنے لگے دستار پر آ ہی جاتی ہیں لبوں پر دل میں پنہاں تلخیاں جتنی بھی پابندیاں عائد رہیں اظہار پر زندگی میں اور بھی ہیں کام، اے جانِ غزل! یہ نظر رہتی نہیں پیہم لب و رخسار پر سچ کہا تو داد دینے کے لیے کوئی نہ تھا جھوٹ جب بولا تو شہ سرخی بنا اخبار پر عشق کو تو ہر طرح ہے بے کلی کا سامنا وصل کے اقرار سے وہ آ گیا انکار پر…

Read More

سرور فرحان ۔۔۔ فراقِ روح سے بس ایک کتبہ بن گیا ہوں

فراقِ روح سے بس ایک کتبہ بن گیا ہوں میں اک اجڑی ہوئی بستی کا حصہ بن گیا ہوں مجھے لگتا نہیں پَر کھول پاؤں گا فضا میں میں اپنے عشق کا خود ہی نشانہ بن گیا ہوں سکوں کیا خاک دوگے تم مجھے اے لمحۂ وصل! مسلسل ہجر کی چوٹوں سے پارا بن گیا ہوں مری آنکھوں میں ہیں تبدیلیاں سارے جہاں کی کبھی ناظر کبھی خود ہی نظارہ بن گیا ہوں جہاں تک ہو سکے تم آزماؤ صبر میرا مگر پتھر نہیں ہوں اب ، میں شعلہ بن…

Read More

سرور فرحان ۔۔۔ چراغِ آرزو بھی اپنے جلنے کی جزا مانگے

Read More

سرور فرحان ۔۔۔ فراق و وصل ہی کے تذکروں میں زندگی گزری

فراق و وصل ہی کے تذکروں میں زندگی گزری ترے حسنِ نظر کے دائروں میں زندگی گزری نہ جانے کیا کہا اظہارِ الفت پر ستم گر نے برستے آنسوئوں کے ساونوں میں زندگی گزری مرے مجموعہِ افکار میں عکسِ طرب کیسا؟ مری تو لمحہ لمحہ سانحوں میں زندگی گزری گلہ شکوہ کروں کیا بحرِ غم کی بیکرانی کا تری موجِ تبسم کی حدوں میں زندگی گزری نظر آئے نہیں چشمِ انا کو روز و شب اپنے ہمیشہ دوسروں پر تبصروں میں زندگی گزری بھلا اچھے بُرے کا فیصلہ ہم کر…

Read More