سرور فرحان ۔۔۔ یہ الگ بات کہ ہر پل مجھے ٹالا ہو گا

یہ الگ بات کہ ہر پل مجھے ٹالا ہو گا
پھر بھی ہر شعر ترے ہجر کا نالہ ہو گا

آج بھی بھوکے ہی مزدُور کے بچے سوئے
کل پہ اُجرت کو کسی شخص نے ٹالا ہو گا

تجھ کو کیا علم بچھڑتے ہو ئے تجھ سے میں نے
کیسے کیسے دلِ مُضطر کو سنبھالا ہو گا

کر کے رُسوا مجھے صحرا میں جو لے آئی ہے
زندگی یہ بھی ترے بُغض کا چالا ہو گا

ظلم دیکھیں گے مگر بول نہیں پائیں گے
یوں سبھی لوگوں کے ہونٹوں پہ ہی تالا ہو گا

میر و غالب کے ابھی تم کرو جوتے سیدھے
پھر کہیں شعر کی دنیا میں حوالہ ہو گا

Related posts

Leave a Comment