سرور فرحان ۔۔۔ فراقِ روح سے بس ایک کتبہ بن گیا ہوں

فراقِ روح سے بس ایک کتبہ بن گیا ہوں میں اک اجڑی ہوئی بستی کا حصہ بن گیا ہوں مجھے لگتا نہیں پَر کھول پاؤں گا فضا میں میں اپنے عشق کا خود ہی نشانہ بن گیا ہوں سکوں کیا خاک دوگے تم مجھے اے لمحۂ وصل! مسلسل ہجر کی چوٹوں سے پارا بن گیا ہوں مری آنکھوں میں ہیں تبدیلیاں سارے جہاں کی کبھی ناظر کبھی خود ہی نظارہ بن گیا ہوں جہاں تک ہو سکے تم آزماؤ صبر میرا مگر پتھر نہیں ہوں اب ، میں شعلہ بن…

Read More