سیما پیروز ۔۔۔ ماہیے

دریا کا کنارا ہے
یہ دردِ جدائی تو
بس اپنا سہارا ہے

آکاش پہ تارے ہیں
دھرتی پہ جو بکھرے ہیں
وہ اشک ہمارے ہیں

کوئی پتا چناروں کا
دے سندیس مجھے کو
تو آتی بہاروں کا

بادل کیوں برستے ہیں
تم دور نہیں پھر بھی
ملنے کو ترستے ہیں

جوگی اترا پہاڑوں سے
پتہ پوچھوں ساجن کا
کونجوں کی ڈاروں سے
تو دیا میں باتی ہوں
ساتھ نہ چھوڑوں گی
سوگندھ یہ کھاتی ہوں

ٹہنی سے گری کلیاں
کیوں چھوڑ چلے ساجن
تم پیار بھری گلیاں

Related posts

Leave a Comment