بات لگتی ہے پرانی برسوں
ہوئے ، برسے ہوئے پانی، برسوں
یہ وہی بیج اُگا ہے ، جس نے
بات مٹّی کی نہ مانی برسوں
میں نے دیکھی ہے اِسی ساحل پر
خشک دریا کی روانی برسوں
ایک موسم ہے ، گزر جائے گا
یاد آئے گی جوانی برسوں
سر کٹاتا ہے کوئی دم بھر میں
اور چلتی ہے کہانی برسوں
کوئی انعام ہَوا کو ، جس نے
کی ہے پیغام رسانی برسوں!
وہ تو جمشید بس اک ذرّہ تھا
خاک جس دشت کی چھانی برسوں
