جمشید چشتی ۔۔۔ بات لگتی ہے پرانی برسوں

بات لگتی ہے پرانی برسوں
ہوئے ، برسے ہوئے پانی، برسوں

یہ وہی بیج اُگا ہے ، جس نے
بات مٹّی کی نہ مانی برسوں

میں نے دیکھی ہے اِسی ساحل پر
خشک دریا کی روانی برسوں

ایک موسم ہے ، گزر جائے گا
یاد آئے گی جوانی برسوں

سر کٹاتا ہے کوئی دم بھر میں
اور چلتی ہے کہانی برسوں

کوئی انعام ہَوا کو ، جس نے
کی ہے پیغام رسانی برسوں!

وہ تو جمشید بس اک ذرّہ تھا
خاک جس دشت کی چھانی برسوں

Related posts

Leave a Comment