آفتاب خان ۔۔۔ وہ ہم سے خاک نشینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

وہ ہم سے خاک نشینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے
مکان اپنے مکینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

ہمارا سارا اثاثہ تھا پہلی منزل پر
شکستہ بام کے زینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

نئے وطن میں بھی پہلا خمار جا نہ سکا
ہم اپنی کھوئی زمینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

فرار ہو گئے محبوب مہ جبین و رقیب
غُلامِ شاہ بھی تینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

اُنھی کے دم سے ولایت کا راستہ کُھلتا
جو چند سجدے جبینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

تھی جِس کے خون میں رنگت سفید پتّھر کی
وہ کِس بنا پہ نگینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

وہی کمان کی لرزش سے کانپ اُٹّھے ہیں
کِسی کے تِیر جو سینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

بَلا کی دُھوپ سے گزُرے تو شام دیکھی تھی
ہم اپنے خون پسینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

چُھپی ہوئی تھی ہر اک چیز گھر کے اندر ہی
وہ اور جا پہ خزینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

یہی سنا تھا مُبارک ہیں چاند کے کچھ دن
سو ہم بھی سعد مہینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

اُبھر چکا تھا نیا آفتاب دریا پر
مگر وہ ڈُوبے سفینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے

Related posts

Leave a Comment