دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے پانی کا بہاؤ کس طرف ہے یہ راہ کدھر کو مڑ رہی ہے لوگوں کا لگاؤ کس طرف ہے منزل کہاں تاکتے ہیں راہی تکتے ہیں پڑاؤ کس طرف ہے تاثیر کہاں گئی سخن سے جذبوں کا الاؤ کس طرف ہے آواز کہیں بلا رہی ہے یاروں کا رجھاؤ کس طرف ہے تصویر دکھا رہی ہے کیا کچھ رنگوں کا رچاؤ کس طرف ہے کھوئے ہوئے تم کہاں ہو گوہرؔ دل کا یہ کھچاؤ کس طرف ہے
Read MoreTag: گوہرہوشیارپوری
گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو غم بڑھے بھی تو سہی درد زیادہ بھی تو ہو ایسی مشکل تو نہیں دشت وفا کی تسخیر سر میں سودا بھی تو ہو دل میں ارادہ بھی تو ہو ذہن کا مشورۂ ترک طلب بھی برحق ذہن کی بات قبول دل سادہ بھی تو ہو کہیں بادل کہیں سورج کہیں سایہ کہیں دھوپ مرے معبود ترا کوئی لبادہ بھی تو ہو پیار میں کم تو نہیں کم نگہی بھی اس کی ہاں تنک ظرفیٔ احساس کشادہ بھی تو ہو عاشقی…
Read More