ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ہونا ہے جو آج برملا ہو اس دن بھی جو سر پہ دھوپ چمکی جس دن پہ بہت فریفتہ ہو اس رات بھی نیند اگر نہ آئی جس رات پہ اس قدر فدا ہو رنگوں میں وہی تو رنگ نکلا جو تیری نظر میں جچ گیا ہو پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہرا جو تیرے سلام کو کھلا ہو اک شخص خدا بنا ہوا ہے کیا ہو جو یہی مرا خدا ہو سوگند مجھے غزل کی گوہرؔ میں نے جو زباں سے کچھ…
Read MoreTag: गौहर होशियारपुरी
گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے … गौहर होशियारपुरी
دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہے زنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہے آرام کی صورت نظر آئے تو کچھ انساں نیرنگ شب و روز میں تغییر بھی چاہے سودائے طلب کو نہ توکل کے عوض دے یہ شرط تو خود خالق تقدیر بھی چاہے لازم ہے محبت ہی محبت کا بدل ہو تصویر جو دیکھے اسے تصویر بھی چاہے اک پل میں بدلتے ہیں خد و خال لہو کے آنکھ اپنے کسی خواب کی تعبیر بھی چاہے لہجہ تو بدل چبھتی ہوئی بات سے پہلے تیر ایسا تو کچھ…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ اپنا دکھڑا کہتے ہیں ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
اپنا دکھڑا کہتے ہیں اور تجھے کیا کہتے ہیں کچی کونپل ہوتا ہے پیار کا رشتہ کہتے ہیں دنیا کس کی اپنی ہے اہل دنیا کہتے ہیں اے دل یہ در ماندگیاں تجھ کو دریا کہتے ہیں اپنا سا بس لگتا ہے جس کو اپنا کہتے ہیں لوٹنے والے! دیر نہ کر لوٹ کے لے جا کہتے ہیں گوہرؔ لوگ تو بات نہیں بات کا سہرا کہتے ہیں
Read Moreگوہرہوشیارپوری ۔۔۔ دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے … गौहर होशियारपुरी
دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے پانی کا بہاؤ کس طرف ہے یہ راہ کدھر کو مڑ رہی ہے لوگوں کا لگاؤ کس طرف ہے منزل کہاں تاکتے ہیں راہی تکتے ہیں پڑاؤ کس طرف ہے تاثیر کہاں گئی سخن سے جذبوں کا الاؤ کس طرف ہے آواز کہیں بلا رہی ہے یاروں کا رجھاؤ کس طرف ہے تصویر دکھا رہی ہے کیا کچھ رنگوں کا رچاؤ کس طرف ہے کھوئے ہوئے تم کہاں ہو گوہرؔ دل کا یہ کھچاؤ کس طرف ہے
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ جاتی رت سے پیار کرو گے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
جاتی رت سے پیار کرو گے کر لو بات ادھار کرو گے تب مل کر احسان کیا تھا اب مل کر ایثار کرو گے جتنے خواب اتنی تعبیریں کتنے داغ شمار کرو گے اے انکار کے خوگر لوگو اور بھی کوئی وار کرو گے اس کے نام کو ناؤ بنا کر پیاسوں کو سرشار کرو گے فرض کرو ہم مر نہ سکے تو جینے سے انکار کرو گے فرض کرو ہم ہار گئے تو قبر کہاں تیار کرو گے
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو تضیع عمر کا آخر کوئی جواز تو ہو بہم دگر کوئی شب اس سے لب بہ لب تو چلے ہوائے شوق کچھ آلودۂ مجاز تو ہو قدم قدم کوئی سایہ سا متصل تو رہے سراب کا یہ سر سلسلہ دراز تو ہو وہ کم سخن نہ کم آمیز پھر تکلف کیا کچھ اس سے بات تو ٹھہرے کچھ اس سے ساز تو ہو وفا سے منزل ترک وفا تک آ نکلے کسی بہانے تو پتھر کبھی گداز تو ہو شفق کنایۂ لب…
Read Moreگوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ہونا ہے جو آج برملا ہو اس دن بھی جو سر پہ دھوپ چمکی جس دن پہ بہت فریفتہ ہو اس رات بھی نیند اگر نہ آئی جس رات پہ اس قدر فدا ہو رنگوں میں وہی تو رنگ نکلا جو تیری نظر میں جچ گیا ہو پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہرا جو تیرے سلام کو کھلا ہو اک شخص خدا بنا ہوا ہے کیا ہو جو یہی مرا خدا ہو سوگند مجھے غزل کی گوہرؔ میں نے جو زباں سے کچھ…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے یہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھے وہ ایک شخص برائی پہ تل گیا تو چلو سوال یہ ہے کہ ہم بھی کہاں فرشتے تھے اور اب نہ آنکھ نہ آنسو نہ دھڑکنیں دل میں تمہی کہو کہ یہ دریا کبھی اترتے تھے جدائیوں کی گھڑی نقش نقش بولتی ہے وہ برف بار ہوا تھی، وہ دانت بجتے تھے اب ان کی گونج یہاں تک سنائی دیتی ہے وہ قہقہے جو تری انجمن میں لگتے تھے وہ ایک دن کہ…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ سر پر کوئی آسمان رکھ دے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
سر پر کوئی آسمان رکھ دے اک منہ میں مگر زبان رکھ دے آ صلح نہیں سلام تو لے یہ تیر چڑھی کمان رکھ دے اتنا بھی نہ بے لحاظ ہو جا تھوڑا سا تو خوش گمان رکھ دے تجھ کو تری حکمتیں مبارک اک ہاتھ پہ اک جہان رکھ دے پھر ہم کو گدائے رہ بنا کر رہ میں کوئی امتحان رکھ دے تفصیل کہیں گراں نہ پڑ جائے اک حرف میں داستان رکھ دے اب دھیان کی بات چھڑ گئی تو کچھ اس سے الگ بھی دھیان رکھ…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ یہاں کون اس کے سوا رہ گیا … गौहर होशियारपुरी
یہاں کون اس کے سوا رہ گیا زمانہ گیا آئنہ رہ گیا وہ حسن سراپا وہ حسن آفریں مگر ہر کوئی دیکھتا رہ گیا چلو کیا ہوا روشنی ہی تو تھی یہاں دیکھنے کو بھی کیا رہ گیا ہماری کچھ اپنی روایت بھی تھی کتابوں میں لکھا ہوا رہ گیا خدائی کو بھی ہم نہ خوش رکھ سکے خدا بھی خفا کا خفا رہ گیا مقدر کہیں کج کلاہی کرے کوئی گھر میں محو دعا رہ گیا کہیں ایک چپ بھی رسا ہو گئی کوئی بولتا بولتا رہ گیا
Read More