گوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ہونا ہے جو آج برملا ہو اس دن بھی جو سر پہ دھوپ چمکی جس دن پہ بہت فریفتہ ہو اس رات بھی نیند اگر نہ آئی جس رات پہ اس قدر فدا ہو رنگوں میں وہی تو رنگ نکلا جو تیری نظر میں جچ گیا ہو پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہرا جو تیرے سلام کو کھلا ہو اک شخص خدا بنا ہوا ہے کیا ہو جو یہی مرا خدا ہو سوگند مجھے غزل کی گوہرؔ میں نے جو زباں سے کچھ…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ جاتی رت سے پیار کرو گے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

جاتی رت سے پیار کرو گے کر لو بات ادھار کرو گے تب مل کر احسان کیا تھا اب مل کر ایثار کرو گے جتنے خواب اتنی تعبیریں کتنے داغ شمار کرو گے اے انکار کے خوگر لوگو اور بھی کوئی وار کرو گے اس کے نام کو ناؤ بنا کر پیاسوں کو سرشار کرو گے فرض کرو ہم مر نہ سکے تو جینے سے انکار کرو گے فرض کرو ہم ہار گئے تو قبر کہاں تیار کرو گے

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو تضیع‌ عمر کا آخر کوئی جواز تو ہو بہم دگر کوئی شب اس سے لب بہ لب تو چلے ہوائے شوق کچھ آلودۂ مجاز تو ہو قدم قدم کوئی سایہ سا متصل تو رہے سراب کا یہ سر سلسلہ دراز تو ہو وہ کم سخن نہ کم آمیز پھر تکلف کیا کچھ اس سے بات تو ٹھہرے کچھ اس سے ساز تو ہو وفا سے منزل ترک وفا تک آ نکلے کسی بہانے تو پتھر کبھی گداز تو ہو شفق کنایہ‌‌ٔ لب…

Read More

گوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ہونا ہے جو آج برملا ہو اس دن بھی جو سر پہ دھوپ چمکی جس دن پہ بہت فریفتہ ہو اس رات بھی نیند اگر نہ آئی جس رات پہ اس قدر فدا ہو رنگوں میں وہی تو رنگ نکلا جو تیری نظر میں جچ گیا ہو پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہرا جو تیرے سلام کو کھلا ہو اک شخص خدا بنا ہوا ہے کیا ہو جو یہی مرا خدا ہو سوگند مجھے غزل کی گوہرؔ میں نے جو زباں سے کچھ…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے یہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھے وہ ایک شخص برائی پہ تل گیا تو چلو سوال یہ ہے کہ ہم بھی کہاں فرشتے تھے اور اب نہ آنکھ نہ آنسو نہ دھڑکنیں دل میں تمہی کہو کہ یہ دریا کبھی اترتے تھے جدائیوں کی گھڑی نقش نقش بولتی ہے وہ برف بار ہوا تھی، وہ دانت بجتے تھے اب ان کی گونج یہاں تک سنائی دیتی ہے وہ قہقہے جو تری انجمن میں لگتے تھے وہ ایک دن کہ…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون اب یہ آنکھ ہی جانے دوستوں میں دشمن کون یا جگر میں خوں کم تھا یا ابھی جنوں کم تھا دشت کے عوض کرتا ورنہ قصد گلشن کون اک نشاط آرائی اک سکون تنہائی ہجر یا وصال اچھا حل کرے یہ الجھن کون سلسلے محبت کے نام سے نہیں چلتے اپنی ذات جو تج دے شیخ کیا برہمن کون اک نئی لگن بخشے اک فقط تھکن بخشے مردم آزما نکلا رہنما کہ رہزن کون عشق بے خبر گزرے خیر و شر کے عقدوں…

Read More

گوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ کیسے ڈوبا ڈوب گیا ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

کیسے ڈوبا ڈوب گیا ڈوبنے والا ڈوب گیا کیسی نیک کمائی تھی! پیسہ پیسہ ڈوب گیا ناؤ نہ ڈوبی دریا میں ناؤ میں دریا ڈوب گیا لوگ کنارے آن لگے اور کنارہ ڈوب گیا بارش اس نے بھیجی تھی شہر ہمارا ڈوب گیا ساری رات بتا ڈالی تارہ تارہ ڈوب گیا گوہر پورا خواب سنا پانی میں کیا ڈوب گیا

Read More