گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے … गौहर होशियारपुरी

دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہے زنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہے آرام کی صورت نظر آئے تو کچھ انساں نیرنگ شب و روز میں تغییر بھی چاہے سودائے طلب کو نہ توکل کے عوض دے یہ شرط تو خود خالق تقدیر بھی چاہے لازم ہے محبت ہی محبت کا بدل ہو تصویر جو دیکھے اسے تصویر بھی چاہے اک پل میں بدلتے ہیں خد و خال لہو کے آنکھ اپنے کسی خواب کی تعبیر بھی چاہے لہجہ تو بدل چبھتی ہوئی بات سے پہلے تیر ایسا تو کچھ…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ اپنا دکھڑا کہتے ہیں ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

اپنا دکھڑا کہتے ہیں اور تجھے کیا کہتے ہیں کچی کونپل ہوتا ہے پیار کا رشتہ کہتے ہیں دنیا کس کی اپنی ہے اہل دنیا کہتے ہیں اے دل یہ در ماندگیاں تجھ کو دریا کہتے ہیں اپنا سا بس لگتا ہے جس کو اپنا کہتے ہیں لوٹنے والے! دیر نہ کر لوٹ کے لے جا کہتے ہیں گوہرؔ لوگ تو بات نہیں بات کا سہرا کہتے ہیں

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ سر پر کوئی آسمان رکھ دے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

سر پر کوئی آسمان رکھ دے اک منہ میں مگر زبان رکھ دے آ صلح نہیں سلام تو لے یہ تیر چڑھی کمان رکھ دے اتنا بھی نہ بے لحاظ ہو جا تھوڑا سا تو خوش گمان رکھ دے تجھ کو تری حکمتیں مبارک اک ہاتھ پہ اک جہان رکھ دے پھر ہم کو گدائے رہ بنا کر رہ میں کوئی امتحان رکھ دے تفصیل کہیں گراں نہ پڑ جائے اک حرف میں داستان رکھ دے اب دھیان کی بات چھڑ گئی تو کچھ اس سے الگ بھی دھیان رکھ…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ یہاں کون اس کے سوا رہ گیا … गौहर होशियारपुरी

یہاں کون اس کے سوا رہ گیا زمانہ گیا آئنہ رہ گیا وہ حسن سراپا وہ حسن آفریں مگر ہر کوئی دیکھتا رہ گیا چلو کیا ہوا روشنی ہی تو تھی یہاں دیکھنے کو بھی کیا رہ گیا ہماری کچھ اپنی روایت بھی تھی کتابوں میں لکھا ہوا رہ گیا خدائی کو بھی ہم نہ خوش رکھ سکے خدا بھی خفا کا خفا رہ گیا مقدر کہیں کج کلاہی کرے کوئی گھر میں محو دعا رہ گیا کہیں ایک چپ بھی رسا ہو گئی کوئی بولتا بولتا رہ گیا

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا کیا کچھ نہیں آج ہم نے دیکھا ہلتے ہوئے تخت کو سنبھالو گرتا ہوا تاج ہم نے دیکھا جیتے تو خوشی سے مر نہ جاتے کس شخص کا راج ہم نے دیکھا کیا کیا نہ ترس ترس گئے ہم کیا کیا نہ سماج ہم نے دیکھا روئے ہیں تو لوگ رو پڑے ہیں اب کے تو رواج ہم نے دیکھا گوہرؔ کو سلام شوق پہنچے کچھ کام نہ کاج ہم نے دیکھا

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے کوئی دریوزہ گر اپنا کوئی تیرا سوالی ہے حوادث سے نبرد آرائیوں کا کس کو یارا تھا جنوں اپنا سلامت جس نے ہر افتاد ٹالی ہے ترے اغماض کی خو سیکھ لی اہل مروت نے کہ محفل درد کی اب صاحب محفل سے خالی ہے حضوری ہو کہ مہجوری محبت کم نہیں اس سے تب اپنا بخت عالی تھا اب اپنا ظرف عالی ہے نمو کا جوش کچھ نظارہ فرما ہو تو ہو ورنہ بہار اب کے برس خود پائمال‌ خشک سالی…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ اک سایۂ شام یاد آیا … गौहर होशियारपुरी

اک سایۂ شام یاد آیا خوشبو کا خرام یاد آیا دھویا ہوا سات پانیوں میں کیا نام تھا نام یاد آیا لہجے میں شگفتگی گلوں کی اک شستہ کلام یاد آیا اچھا ہوا گور تک تو پہنچے یاروں کو سلام یاد آیا اے موجۂ باد کیا ہوا ہے کیا تازہ پیام یاد آیا کچھ اور زمیں میں گڑ گئے ہم جب اپنا مقام یاد آیا مقتل سے مڑ آئے گھر کو گوہرؔ شاید کوئی کام یاد آیا

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھا ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھا دشوار ورنہ مرحلۂ آرزو نہ تھا ناحق خراب منت درماں ہوا نہ درد ممنون زخم ہوں کہ مقام رفو نہ تھا یا آشنائے رمز طلب ہی نہ تھی زباں لب وا ہوئے تو حوصلۂ گفتگو نہ تھا نا‌ پرسش وفا کی یہ نوبت کبھی نہ تھی دل یوں سلوک اہل کرم سے لہو نہ تھا ہاں کب بنام عشق ہوس سرخ رو نہ تھی ہاں کب نیاز شوق سبک کو بہ کو نہ تھا خوش فہمیٔ خیال کی اب ضد کا کیا…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں لیکن حیات بے خلش دل بھی کچھ نہیں اب سوچ لو قدم ہیں زیاں گاہ شوق میں کہنا نہ پھر کہ جذبۂ کامل بھی کچھ نہیں گہرا سکوت چاپ کی آواز بازگشت رہ میں بھی کچھ نہ تھا سر منزل بھی کچھ نہیں جز حرص منفعت تہ دریا بھی کچھ نہ تھا جز وہم عافیت لب ساحل بھی کچھ نہیں سب جذب آرزو کی تمازت کا کھیل ہے دل سرد ہو تو گرمئ محفل بھی کچھ نہیں بدلے تو اک نمونۂ‌ اعراض…

Read More

گوہر ہوشیارپوری

اجلے میلے پیش ہوئے جیسے ہم تھے پیش ہوئے ……… Ils sont venus, si purs, si beauxComme un jour — nous étions venus, sans fard ni faux Sie traten auf, so rein, so klar,Wie einst auch wir – ganz ohne Trug und ohne Narr 彼らは現れた、澄んだ光のように、まるであの日の私たちのように — 飾らず、まっすぐに वो भी आए उजले-से, बिलकुल साफ़ दिल सेजैसे कभी हम आए थे — बिना नक़ाब, पूरे दिल से।

Read More