باپ مفلس ہو تو پھر ہاتھ بٹانے کے لیےبیٹیاں گھر سے نکلتی ہیں کمانے کے لیے یہ ہے بازارِ ہوس، لوگ شکاری ہیں یہاںحُسن کو سب سے بچا، عشق بچانے کے لیے تیری مجبوری سے اوروں کو سروکار نہیںدائو پر خود کو لگا، قرض چکانے کے لیے کوئی بھی شخص تجھے دادِ وفا دے گا نہیںپیار کب پیار ہے بے درد زمانے کے لیے وصل کی شام اُداسی میں گزر جاتی ہےخود کو تیار کروں، ہجر منانے کے لیے عشق کے گرم جزیرے میں چلا آیا ہوںساحلِ دید ملے، پیاس…
Read MoreTag: Aftab Khan
آفتاب خان ۔۔۔ دو غزلیں
اپنی ضرورتوں سے پریشان بھی نہیں کہنے کو زندگی مری آسان بھی نہیں دیوانہ بن کے شہر میں کیوں گھومتا پھروں ایسا ابھی میں چاک گریبان بھی نہیں کردار قتل کرکے کہانی لپیٹیے اب اس زمیں پہ زیست کے امکان بھی نہیں دکھ سکھ میں سب شریک تھے اِک وہ بھی دور تھا کب صحن وہ رہے ہیں ، وہ دالان بھی نہیں جیسا تھا اُس کا ظرف وہ اُس نے دکھا دیا مَیں اُس کی بے وفائی پہ حیران بھی نہیں کیوں کر میں تیرے دستِ حنائی کو تھام…
Read More