تیری شاہی تو نہیں میرے خدا مانگی تھی میں نے بیٹی کے مقدر کی دعا مانگی تھی تجھ سے مانگی ہی نہیں بادِ صبا کی نعمت موسمِ حبس میں تھوڑی سی ہوا مانگی تھی اس کی پاداش میں خورشید خفا بیٹھا ہے میں نے جگنو سے اندھیرے میں ضیا مانگی تھی وہ ہی دو چار سی خوشیاں وہ ہی تھوڑا سا سکوں یوں بھی تقدیر کہاں سب سے جدا مانگی تھی صاف گوئی مجھے لاحق ہے مرے اچھے طبیب بس اسی واسطے اچھی سی دوا مانگی تھی جبر کے نیزے…
Read More