ہبوط ۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانے! تِری لوح پر خواب لِکھا ہُوا ہے مِرا اِس زمیں سے مگر چاند لگتا ہے وہ تیرے ماتھے پہ جھومر کی صورت چمکتا ہے آدھی جوانی اور آدھے بڑھاپے میں لپٹی ہُوئی خاک پر جب دمکتا ہے تصویر پانی کی، نیلے سمندر کی البم سے باہر اُچھلتی ہے مٹی کی عینک لگائے کنارے پہ بیٹھے ہُوئے آدمی کے قدم چومتی ہے۔ زمیں گھومتی ہے تو تصویر رہتی ہے پانی نہ وہ آدمی سارا منظر پھسل کر کسی دائمی بیکرانی کے جَل میں سما جاتا ہے آسمانی پہاڑی…
Read MoreTag: Khawar Ijaz
خاور اعجاز ۔۔۔ بوتے ہیں خواب میں دن، اوِر رات کاٹتے ہیں
بوتے ہیں خواب میں دن، اوِر رات کاٹتے ہیں ہم اپنی جاں پہ کیا کیا آفات کاٹتے ہیں لطفِ سخن ہی اُن سے باقی نہیں رہا اَب ہم بات جوڑتے ہیں وہ بات کاٹتے ہیں کیا پوچھتے ہو ہم سے کیا لکھ رہے ہیں ، لیکن اِتنی خبر ہے جس پر یاں ہات کاٹتے ہیں اے آسماں تجھے کچھ معلوم ہے حقیقت ہم کس طرح سے اپنے اوقات کاٹتے ہیں تھم جائے گا بالآخر یہ زورِ گریہ خاورؔ چلیے اِک اور غم کی برسات کاٹتے ہیں
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ موجِ دریا سے ضروری تھا کہ لڑتے رہتے
موجِ دریا سے ضروری تھا کہ لڑتے رہتے گلے پڑتے تھے جو گرداب تو پڑتے رہتے شعر کہنا کوئی آساں نہیں میرے نقّاد ! ہم تِری طرح سے پنسل نہیں گھڑتے رہتے ایک دن مان لی اُس کی سو بہت خوار ہُوئے کام بن جاتے اگر روز بگڑتے رہتے اور بھی رہتا اگر تن پہ لباسِ ہستی داغ دھبے مِری پوشاک پہ پڑتے رہتے آدھا آدھا کیا جاگیر کو تب چین ہُوا کب تلک بھائی سے بیکار جھگڑتے رہتے
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ کچھ دیر ٹھہر
کچھ دیر ٹھہر ۔۔۔۔۔ زمانے! گلی میں صدا تُو نے دی ہے تو بستی میں کہرام سا مچ گیا ہے شبِ تار میں جگنوؤں کی قطاریں اندھیرے کی دیوار میں دَر بنانے کی کوشش میں ہیں تیرگی منہ چھپاتی ہُوئی پھِر رہی ہے کئی روز سے رات ٹھہری ہُوئی تھی مگر تُو نے آواز دی تو یہ منظر بدلنے لگا ہے مِرا قافلہ پھِر سے چلنے لگا ہے مگر ٹمٹماتے ہُوئے جگنوؤں کی قطاروں سے سورج اُبھرنے میں کچھ دیر ہے میری مٹی سنورنے میں کچھ دیر ہے بیٹھ جا…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ (Jane Reichhold)
The whole sky In a wide field of flowers One Tulip بامِ فلک ہے یا پھولوں کے باغیچے میں ایک گلِ لالہ A long journey Some cherry petals Begin to fall ایک طویل سفر چیری کی کچھ پنکھڑیاں گِرنے کا آغاز Winter cold Finding on a beach An open knife یخ بستہ سردی ڈھونڈ رہی ہے ساحل پر ایک کھُلا چاقو Wild flowers The early spring sunshine In my hand کچھ جنگلی غنچے اوّل موسمِ گل کی دھوپ میرے ہاتھوں میں
Read Moreنعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ خاور اعجاز
سمندر محمدؐ ، سفینہ محمدؐ خدا تک پہنچنے کا زینہ محمدؐ مجھے زندگی دینے والا خدا ہے مگر زندگی کا قرینہ محمدؐ زمانے کی نظروں میں مکہ مدینہ ہمارا تو مکہ مدینہ محمدؐ درخشندہ ہے بزمِ ہستی انہیؐ سے یہ عالم صدف اور نگینہ محمدؐ کسی سے نہیں ایک گوشہ بھی پنہاں جو سب پر عیاں وہ خزینہ محمدؐ
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ ہائیکو تراجم(Jane Reichhold)
A spring nap Downstream cherry trees in bud موسمِ گل میں نیند کی چھپکی جیسے موجود ہوں شگوفوں میں لبِ دریا درخت چیری کے Long hard rain Hanging in the willows Tender new leaves سردیوں کی طویل بارش میں پیڑ پر جھولتے ہوئے قطرے تازہ پتّوں کا پیش خیمہ ہیں Ancestors The wild plum blooms again آبأ و اجداد جنگلی آلوچے جیسے پھِر سے کھِل اُٹھیں Moving into the sun The pony takes with him Some mountain shadow سورج میں چلتے گھوڑا لے گیا اپنے ساتھ پربت کا سایہ
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ خاور اعجاز
وہ فاصلہ ہے کہ لمحہ بھی سال ہے آقاؐ مدینہ دُور ہے ، اِس کا ملال ہے آقاؐ خراب حال ہیں اقوام بالعموم ، مگر خراب تر تِری اُمت کا حال ہے آقاؐ مگر بھُلائے ہُوئے ہیں اصولِ راہبری اگرچہ سامنے تیری مثال ہے آقاؐ سوائے ایک تمنائے حاضری ، مجھ پاس نہ زادِ راہ نہ مال و منال ہے آقاؐ سیاہ کار کے چہرے پہ نور آ جائے کرم کی ایک نظر کا سوال ہے آقاؐ
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ خواب میں ہار پروتے ہُوئے رہ جاتے ہیں
خواب میں ہار پروتے ہُوئے رہ جاتے ہیں فصلِ گُل ! ہم یونہی سوتے ہُوئے رہ جاتے ہیں دامنِ غیر تو بھر جاتا ہے لیکن اکثر تیرے بندے تیرے ہوتے ہُوئے رہ جاتے ہیں لوگ ملبوس بدل لیتے ہیں پل میں اور ہم داغِ پندار ہی دھوتے ہُوئے رہ جاتے ہیں فصل کٹ جاتی ہے بیتاب سروں کی اور وہ امن کا بیج ہی بوتے ہُوئے رہ جاتے ہیں بیت جاتی ہیں مہکتی ہُوئی عمریں اور لوگ سانس کی گٹھڑیاں ڈھوتے ہُوئے رہ جاتے ہیں
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ آ، مِرا خواب ہو
آ_ مِرا خواب ہو زمانے! تِری آنکھ میں بھی کوئی خواب ہے یا نہیں کرب کی زرد آندھی نے میری تو دونوں ہی آنکھوں میں مٹی اُڑائی ہُوئی ہے مِرے راستے میں تو دُنیا ہی آئی ہُوئی ہے عجب بھیڑ ہے خواب کے قافلوں کی عجب بھیڑ ہے ہر طرف اِک الاؤ جلا ہے کہیں کوئی شعلہ کہیں بس دھواں اُٹھ رہا ہے کبھی اِس طرف کو جو تو آن نکلے مِرے دِل کے صحرا کا منظر تجھے جانے کیسا لگے گا زمانے! مِرے دِل کے صحرا میں آتے ہُوئے…
Read More