ماجد صدیقی ۔۔۔ اظہار کو تھا جس کی رعُونت پہ گماں اور

اظہار کو تھا جس کی رعُونت پہ گماں اور دے دی ہے اُسی حبس نے پیڑوں کو زباں اور کہتی ہیں تجھے تشنہ شگوفوں کی زبانیں اے ابر کرم ! کھینچ نہ تو اپنی کماں اور ہر نقشِ قدم، رِستے لہو کا ہے مرّقع اِس خاک پہ ہیں، اہلِ مسافت کے نشاں اور نکلے ہیں لئے ہاتھ میں ہم، خَیر کا کاسہ اُٹھنے کو ہے پھر شہر میں، غوغائے سگاں اور صیّاد سے بچنے پہ بھی ، شب خون کا ڈر ہے اب فاختہ رکھتی ہے یہاں ، خدشۂ جاں…

Read More