ماجد صدیقی ۔۔۔ لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں

لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں ہٹے ہیں اور نہ ہٹ پائیں خوردگاں پر سے سرِجہان بڑوں کے دباؤ جیسے ہیں وہ دوستی کے ہوں یا تا بہ عمر رشتوں کے ہم آپ ہی نے کیے ہیں چناؤ جیسے ہیں شجر شجر پہ یہی برگِ زرد سوچتے ہیں اُڑا ہی دیں نہ ہَوا کے دباؤ جیسے ہیں زباں کی کاٹ کے یا بّرشِ تبر کے ہیں ہماری فکر و سماعت پہ گھاؤ جیسے ہیں چلن دکھائیں بالآخر نہ پھر کمانوں سا…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ نہ ابتدا سے نہ انجامِ ناگہاں سے سنی

نہ ابتدا سے نہ انجامِ ناگہاں سے سنی سنی بھی میری کہانی تو درمیاں سے سنی اُٹھی نہ تھی جو ابھی حلق سے پرندے کے وہ چیخ ہم نے چمن میں تنی کماں سے سنی ملا تھا نطق اُسے بھی پہ نذرِ عجز ہُوا کتھا یہی تھی جو ہر فردِ بے زباں سے سنی دراڑ دُور سے ایوان کی نمایاں تھی زوالِ شہ کی حکایت یہاں وہاں سے سنی زباں سے خوف میں کٹ جائے جیسے لفظ کوئی صدائے درد کچھ ایسی ہی آشیاں سے سنی گماں قفس کا ہر…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ ملا ہے تخت کسے کون تخت پر نہ رہا

ملا ہے تخت کسے کون تخت پر نہ رہا یہ بات اور ہے جاری تھا جو سفر نہ رہا شبِ سیاہ میں بھی جو تھا روشنی کا سفیر کنارِ بام سے وہ جھانکتا قمر نہ رہا لگی تھیں جس پہ نگاہیں نہ جانے کس کس کی مریض پر وہی تعویذ کارگر نہ رہا یقیں تھا جو بھی وہ اب گردِ اشتباہ میں ہے یہ کیا ہُوا کہ کوئی شخص معتبر نہ رہا بڑے بڑوں پہ بھی ماجد! بہ نامِ ارضِ وطن جو اعتماد تھا، القصّہ مختصر نہ رہا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی

مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کر دی اگر سر زد ہُوا حق مانگنے کا جرم تو اُس پر سزا کیسی مرے دستِ طلب نے کون سی ایسی خطا کر دی زمیں یا آسماں کا جو خدا تھا سامنے اُس کے جھُکایا سر، اٹھائے ہاتھ اور رو کر دعا کر دی وطن کی بد دعا پر ریزہ ریزہ ہو گیا کوئی کسی نے دیس پر جاں تک ہتھیلی پر سجا کر دی حیا آنکھوں میں اور سچّائیاں جذبات میں…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا

جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا روک ڈالے مرغزاروں، پنگھٹوں کے راستے گرگ نے کیا کیا غزالوں کا نہیں پیچھا کِیا بچ نکلنے پر بھی اُس کے ظلم سے ہم رو دئیے عمر بھر جو دھونس اپنی ہی تھا منوایا کِیا کوڑھ سی مجبوریاں تھیں لے کے ہم نکلے جنہیں نارسائی نے ہمیں کیا کیا نہیں رسوا کِیا موسموں کے وار اِس پر بھی گراں جب سے ہوئے پیڑ بھی ماجد ہمِیں سا جسم سہلایا گیا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے

تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو ازسرِ نو…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ پت جھڑوں میں کیا سے کیا یاد آئیاں

پت جھڑوں میں کیا سے کیا یاد آئیاں تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں آئنے چہروں کے گرد آلود ہیں پانیوں پر جم چلی ہیں کائیاں مفلسی ٹھہرے جہاں پازیبِ پا ان گھروں میں کیا بجیں شہنائیاں مکر سے عاری ہیں جو اپنے یہاں عیب بن جاتی ہیں وہ دانائیاں جو نہ جانیں بے دھڑک منہ کھولنا ہیں اُنہی کے نام سب رسوائیاں

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی

اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی پل بھر میں دھُنک جاتے ہیں ابدان کئی بٹتا دیکھ کے ریزوں میں مجبوروں کو تھپکی دینے آ پہنچے ذیشان کئی شاہ کا در تو بند نہ ہو پل بھر کو بھی راہ میں پڑتے ہیں لیکن دربان کئی طوفاں میں بھی گھِر جانے پر، غفلت کے مرنے والوں پر آئے بہتان کئی دل پر جبر کرو تو آنکھ سے خون بہے گم سم رہنے میں بھی ہیں بحران کئی ہم نے خود دیکھا ہاتھوں زور آور کے قبرستان بنے ماجد دالان…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ اُس نے جو ہشیار تھا ، دیکھا چھین لیا

اُس نے جو ہشیار تھا ، دیکھا چھین لیا ہاتھ میں بچّے کے تھا کھلونا چھین لیا سادہ لوح نے جو کچھ سینت کے رکھا تھا مکر نے اپنا ہاتھ دکھایا چھین لیا باپ سا دست نگر اُس کو بھی بنانے کو بنیے نے طفلک سے بستہ چھین لیا یہ بھی ہُنر ہے جو حاصل ہے جابر کو شاہیں نے چڑیا سے جینا چھین لیا عزّت داروں سے ماجدِ زور آور نے جتنا زعم اُنہیں تھا سارا چھین لیا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ اِک زمانے سے بہ وجہِ قحطِ زر، ناراض ہیں

اِک زمانے سے بہ وجہِ قحطِ زر، ناراض ہیں مجھ سے میرے گھر تلک کے بام و در ناراض ہیں سر کشیدہ ہیں ہوائیں اور کبوتر بدگماں چاہنے والوں سے سارے نامہ بر،ناراض ہیں باغ میں جب سے سیاست بادِ صرصر کی چلی ٹہنیوں سے پیڑ، پیڑوں سے ثمر ناراض ہیں مسخ کر ڈالے حقائق کور چشموں نے سبھی کر ہی کیا لیں گے اگر اہلِ نظر ناراض ہیں رونے دھونے سے فقط رہبر سے اب پائیں گے کیا کھو کے ماجد ہم اگر سمتِ سفر ناراض ہیں

Read More