ڈھلوان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ننگی چیختی آواز
پھر چابک کا شور
کھڑکھڑاتے زنگ آلودہ سے پہیوں کی صدا
اور میں آواز کے آگے جتا
میری آنکھوں پر نقاب
میرے منہ میں خار دار آہن کی جیب
میرے بازو
سخت چمڑے کے سیہ رسوں کے
برہم جال میں جکڑے ہوئے
اور میرے سم
مرے چاروں رفیق
گھاٹیوں سے پتھروں سے بے خطر
خندقوں سے بے نیاز
