بند ہی رہنا تھا اس کے دل کا دروازہ کہ ، ہم
کھولتے تھے خود ہی اس جانب جدھر کھلتا نہیں
Related posts
-
راحت اندوری
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ... -
-
