بند ہی رہنا تھا اس کے دل کا دروازہ کہ ، ہم
کھولتے تھے خود ہی اس جانب جدھر کھلتا نہیں
Related posts
-
-
راحت اندوری
بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے -
راحت اندوری
شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا
