ذکی طارق ۔۔۔ صفوں میں اپنی یہ کیوں انتشار باقی ہے

صفوں میں اپنی یہ کیوں انتشار باقی ہے
دلوں میں لگتا ہے اب تک درار باقی ہے

ملول کیوں ہے قیامت ابھی نہ آئے گی
ابھی جہاں میں بہت سارا پیار باقی ہے

تم آئے تو ہو بظاہر ہماری محفل میں
مگر تمہارا ابھی انتظار باقی ہے

یہ کیسے مان لیں ہے قحط سالی دنیا میں
ہماری آنکھوں میں تو آبشار باقی ہے

وبالِ جاں نہیں نعمت ہے مجھ کو بیماری
تمہارے جیسا جو تیمار دار باقی ہے

عجیب بات ہے ذکر ان کا ہو رہا ہے اور
نظامِ گردشِ لیل و نہار باقی ہے

کرے ہے بھیک بھی مجھ سے وہ اس غضب سے طلب
کہ جیسے اس کا پرانا ادھار باقی ہے

یہ کیا ، ہے عمر تو اس کی خزاں رسیدہ مگر
ابھی تک اس کے بدن پر بہار باقی ہے

میں دنیا بھر میں تو معروف ہو چکا ہوں ’’ذکی‘‘
بس اپنا گاؤں اور اس کا جوار باقی ہے

Related posts

Leave a Comment