ذکی طارق ۔۔۔ صفوں میں اپنی یہ کیوں انتشار باقی ہے

صفوں میں اپنی یہ کیوں انتشار باقی ہے دلوں میں لگتا ہے اب تک درار باقی ہے ملول کیوں ہے قیامت ابھی نہ آئے گی ابھی جہاں میں بہت سارا پیار باقی ہے تم آئے تو ہو بظاہر ہماری محفل میں مگر تمہارا ابھی انتظار باقی ہے یہ کیسے مان لیں ہے قحط سالی دنیا میں ہماری آنکھوں میں تو آبشار باقی ہے وبالِ جاں نہیں نعمت ہے مجھ کو بیماری تمہارے جیسا جو تیمار دار باقی ہے عجیب بات ہے ذکر ان کا ہو رہا ہے اور نظامِ گردشِ…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ ذکی طارق

جو ہے دکھ درد میں مبتلا چل چل نبی کے دیارالشفا چل جیسے چلتے تھے اصحابِ آقا اْس طرح زیست کا راستہ چل آج دل مضطرب ہے بہت ہی کر لیں آ ذکرِ صلِ علٰی چل ہوگا عرفان عشقِ محمدؐ راہِ سنت پہ یونہی چلا چل مصطفٰے کے طفیل المدد رب راہ مشکل ہے کرتا دعا چل رہبرِ وقت اک کہکشاں دے جیسے چلتے تھے میرے شہا چل نقشِ پا ہیں نبی کے یہاں پر یہ مدینہ ہے بچ کر ذرا چل

Read More