شاہنواز زیدی ۔۔۔ آنکھ پھر تیرے خواب سے بھر لوں

آنکھ پھر تیرے خواب سے بھر لوں
یہ پیالہ سراب سے بھر لوں

پھر شبِ ہجر آنے والی ہے
روشنی آفتاب سے بھر لوں

کس لئے طالبِ ثواب بنوں
سر حساب و کتاب سے بھر لوں

کامیابی کی راہ پر نکلوں
زندگی اضطراب سے بھر لوں

کیسے تجدید کار عشق کروں
روز و شب پھر عذاب سے بھر لوں

کیسے مانوں رحیم کو جابر
جام کو اجتناب سے بھر لوں

ہاتھ پھیلاؤں گا دعا کے لئے
پہلے چلّو شراب سے بھر لوں

Related posts

Leave a Comment