نیلم ملک ۔۔۔ سیرِگُل کو جو کبھی صاحبِ من جائیے گا!

سیرِگُل کو جو کبھی صاحبِ من جائیے گا!
پتّی پتّی کو تپاں پوروں سے سہلائیے گا!

خام ہے آپ کا نظروں میں تپش کا دعویٰ
برف منظر کو اگر چھو کے ہی پِگھلائیے گا!

تنگ ہے عمر کے اس اَنگ پہ لمحوں کی قبا
شوخ جذبوں کو ذرا سہج کے گَدرائیے گا!

کَسمَسا کر جو غزل رہ میں چْھڑائے آنچل
اپنی مستانہ روی سے اْسے بہکائیے گا!

لوچ پر اس کے کرے رشک ہواؤں کا بدن
مصرعہِ شنگ کو اِس طرح سے مَسکائیے گا!

رَم کرے آپ کے پہلو میں پہنچ کر ہِرنی
اس سے بہتر ہے کہ جنگل سے نکل جائیے گا!

سب ستارے اِسی خوش بخت کے قدموں میں گِریں
آسماں کو کچھ اس انداز سے جَھٹکائیے گا!

بیٹھیے! اور بھی کرنی ہیں ضروری باتیں
ایک تو یہ کہ دوبارہ نہ یہاں آئیے گا!

Related posts

Leave a Comment