جبھی تو ہم اکیلے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفا میں ہم اصولوں پر
کبھی سودا نہیں کرتے
ضرورت کو
محبت کے سہانے لفظ پہنا کر
وفاداری کی سرحد پر
نجانے کتنے ہی چہرے
اسی باعث
ہمیں گھیرے ہوئے کتنے جھمیلے ہیں
جبھی تو ہم اکیلے ہیں
Related posts
-
صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا
اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں... -
نثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)
یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر... -
شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم
نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں...
