جبھی تو ہم اکیلے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفا میں ہم اصولوں پر
کبھی سودا نہیں کرتے
ضرورت کو
محبت کے سہانے لفظ پہنا کر
وفاداری کی سرحد پر
نجانے کتنے ہی چہرے
اسی باعث
ہمیں گھیرے ہوئے کتنے جھمیلے ہیں
جبھی تو ہم اکیلے ہیں
Related posts
-
غلام حسین ساجد ۔۔۔ خاک کی کیمیا
خاک کی کیمیا آسماں جاگتا ہے یا سویا ہوا ہے زمیں زاد ہوں میں، مجھے ایسے... -
اختر عثمان ۔۔۔ شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام
شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام جب تشنگی کمال ہوئی شیرخوار کو شبنم کی یاد آنے... -
شاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا
دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو...
