جبھی تو ہم اکیلے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفا میں ہم اصولوں پر
کبھی سودا نہیں کرتے
ضرورت کو
محبت کے سہانے لفظ پہنا کر
وفاداری کی سرحد پر
نجانے کتنے ہی چہرے
اسی باعث
ہمیں گھیرے ہوئے کتنے جھمیلے ہیں
جبھی تو ہم اکیلے ہیں
Related posts
-
شاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا
دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو... -
امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد
حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ... -
ضد ۔۔۔ پروین شاکر
ضد ۔۔۔۔ میں کیوں اُس کو فون کروں! اُس کے بھی تو علم میں ہو گا...
