مجسمہ اک مرا بناکر
اسی کے رستے میں
اس جگہ اسکو نصب کرنا
جہاں بہت سے رقیب و عشاق
اس کی رہ تکتے تکتے
جاں سے گذر گئے ہیں
مگر وہیں پر
میں آج بھی اس کا منتظر ہوں
نظم ۔۔۔ صفدر صدیق رضی
مجسمہ اک مرا بناکر
اسی کے رستے میں
اس جگہ اسکو نصب کرنا
جہاں بہت سے رقیب و عشاق
اس کی رہ تکتے تکتے
جاں سے گذر گئے ہیں
مگر وہیں پر
میں آج بھی اس کا منتظر ہوں