محب عارفی

بحر میں کچھ نہیں قطروں کے سوا ، کیا سمجھے ہوئے جاتے ہیں وہ قطرے بھی ہوا، کیا سمجھے بزم میں کوئی نہیں اور بپا ہیں ہر سُو غمزہ و عشوہ و انداز و ادا کیا سمجھے مے کدے میں نہ صراحی ہے، نہ ساغر ، نہ شراب کوئی یہ راز کہ گردش میں ہے کیا کیا سمجھے جوئے بے آب میں لہریں سی رواں ہیں کیوں کر غوطہ خوارانِ یمِ چون و چرا! کیا سمجھے کل خلا کو جو سمجھتے تھے محال، آج انھیں ہر حقیقت نظر آتی ہے…

Read More

سمندر کا بلاوا ۔۔۔۔۔ میرا جی

  یہ سرگوشیاں کہہ رہی ہیں اب آؤ کہ برسوں سے تم کو بلاتے بلاتے مرے دل پہ گہری تھکن چھا رہی ہے کبھی ایک پل کو کبھی ایک عرصہ صدائیں سنی ہیں مگر یہ انوکھی ندا آ رہی ہے بُلاتے بُلاتے تو کوئی نہ اب تک تھکا ہے نہ آیندہ شاید تھکے گا، ’’مِرے پیارے بچے‘‘۔۔۔۔’’مجھے تم سے کتنی محبت ہے‘‘۔۔۔۔’’دیکھو‘‘ اگر یوں کیا تو بُرا مجھ سے بڑھ کر نہ کوئی بھی ہوگا ۔۔۔۔’’خدایا،خدایا!‘‘ کبھی ایک سسکی،کبھی اک تبسم،کبھی صرف تیوری مگر یہ صدائیں تو آتی رہی ہیں…

Read More

ساقی فاروقی

  دیارِ مرگ میں زندہ نظر بھی جاتے ہیں دیے تک اُڑ کے پہنچتے ہیں، مر بھی جاتے ہیں جو روح پر کسی وحشت کی چھوٹ پڑتی ہے تو ہم خیال کی طاقت سے ڈر بھی جاتے ہیں تری تلاش میں جاتے ہیں بے ارادہ بھی اور اپنے خون کی تحریک پر بھی جاتے ہیں یہ حادثہ ہے کہ پندار پر بھی بات آئی  وگرنہ زخم محبت کے بھر بھی جاتے ہیں بہت دنوں سے ہمارے تعلقات نہیں مگر خدا کی گلی سے گزر بھی جاتے ہیں  

Read More

ابو لہب کی شادی ۔۔۔۔۔ ن۔م۔راشد

شبِ زفافِ ابو لہب تھی، مگر خدایا وہ کیسی شب تھی، ابو لہب کی دلہن جب آئی تو سر پہ ایندھن، گلے میں سانپوں کے ہار لائی، نہ اس کو مشاطّگی سے مطلب نہ مانگ غازہ، نہ رنگ روغن، گلے میں سانپوں کے ہار اس کے، تو سر پہ ایندھن! خدایا کیسی شب زفافِ ابو لہب تھی! یہ دیکھتے ہی ہجوم بپھرا، بھڑک اٹھے یوں غضب کے شعلے، کہ جیسے ننگے بدن پہ جابر کے تازیانے! جوان لڑکوں کی تالیاں تھیں، نہ صحن میں شوخ لڑکیوں کے تھرکتے پاؤں تھرک…

Read More

شاد عظیم آبادی

ایک ستم اور لاکھ ادائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے  ترچھی نگاہیں، تنگ قبائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے ہجر میں اپنا اور ہی عالم ، ابرِ بہاراں، دیدۂ پر نم  ضد کہ ہمیں وہ آپ بلائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے اپنی ادا سے آپ جھجکنا، اپنی ہوا سے آپ کھٹکنا  چال میں لغزش ،منہ پہ حیائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے ہاتھ میں آڑی تیغ پکڑنا تاکہ لگے بھی زخم تو اوچھا  قصد کہ پھر جی بھر کے ستائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے کالی گھٹائیں، باغ میں…

Read More

جی چاہتا ہے اور اندھیرا دکھائی دے۔۔۔ لیاقت علی عاصم کی سیرِ شب اور ہم

  از: حامد یزدانی کینیڈا کی معروف ماہرِ رقص خاتون شینن لٹسن برگر اب کے اپنے آبائی انتہائی سرد شمالی صوبے سسکیچوان گئیںتو وہاں انھیں گراس لینڈ زنیشنل پارک کی سیرِ شب کا موقع بھی ملا۔ گراس لینڈز پارک کینیڈا کے ان چودہ پارکوںمیں سے ایک ہے جنھیں سرکاری طورہر ’’ڈارک سکائی ریزرو‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔ گراس لینڈزکینیڈامیں اس نوعیت کاسب سے بڑا نہ سہی، سب سے تاریک آسمان کا حامل پارک ضرور ہے۔ ۷۲۹ مربع کلو میٹر پر پھیلا ہُوا یہ وسیع میدان انسانی آبادی اور اس کے…

Read More

آٹو گراف ۔۔۔۔ مجید امجد

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے کتابچے لیے ہوئے !کھڑی ہیں منتظر ۔۔۔۔حسین لڑکیاں !ڈھلکتے آنچلوں سے بےخبر، حسین لڑکیاں مہیب پھاٹکوں کے ڈولتےکواڑ چیخ اُٹھے اُبل پڑے اُلجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کےپُر ہراس قافلے گرے، بڑھے، مُڑے بھنور، ہجوم کے ،کھڑی ہیں یہ بھی، راستے پہ، اک طرف بیاضِ آرزو بکف نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں لرز رہا ہے دم بہ دم کمان ابرواں کا خم کوئی جب ایک نازِ بےنیاز سے کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا حروفِ کج تراش کی لکیر سی تو تھم گئیں…

Read More