پرندے سرِ شاخ پیوند ہیں شجر جنگلوں میں نظر بند ہیں ہمیں لوگ ہوتے تھے آئینہ گر ہمیں لوگ آئینہ پابند ہیں جنھیں ہونا تھا میری پوشاک پر مرے رزق پر سب وہ پیوند ہیں کوئی شب میں رستہ سُجھاتا نہیں سروں پر ستارے بھی ہر چند ہیں ہمیں بھی، جمال! ایسی جلدی نہیں کبھی تو کھلیں گے جو دَر بند ہیں
Read MoreMonth: 2019 اگست
اسلم انصاری
دیوارِ خستگی ہوں، مجھے ہاتھ مت لگا میں گر پڑوں گا، دیکھ ! مجھے آسرا نہ دے
Read Moreمعجزہ فن (پگمیلیاں اور گلاٹیا)…. منطوم ڈراما…… جعفر طاہر
معجزہ فن (پگمیلیاں اور گلاٹیا)۔۔۔ منظوم ڈراما۔۔۔۔ جعفر طاہر Download
Read Moreافسانہ: "قاسم” از سعادت حسن منٹو۔۔۔۔ پیش کش: توقیر عباس
نظمیں: مجھے بد دعا نہ دے، اے عشق! کہیں لے چل… شاعر: اختر شیرانی۔۔ پیش کش: نوید صادق
نجیب احمد
آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گا ایک دن ، رات ڈھلے یومِ حساب آئے گا مطمئن ایسے کہ ہر گام یہی سوچتے ہیں اس سفر میں کوئی صحرا نہ سراب آئے گا یہ جوانی تو بڑھاپے کی طرح گزرے گی عمر جب کاٹ چکوں گا تو شباب آئے گا کب مری آنکھ میں خوں رنگ کرن اُترے گی رات کی شاخ پہ کب عکسِ گلاب آئے گا زرد مٹی میں گھلی سبز توانائی نجیب اب ذرا آنکھ لگی ہے تو یہ خواب آئے گا
Read Moreالفت رسول
بات آپس کی تھی وہ، میں نے اگر کہہ بھی دی اور اب تُو ہے کہ اخبار لیے پھرتا ہے
Read Moreتجزیہ ۔۔۔۔ جاں نثار اختر
میں تجھے چاہتا نہیں لیکن پھر بھی جب پاس تُو نہیں ہوتی خود کو کتنا اُداس پاتا ہوں گم سے اپنے حواس پاتا ہوں جانے کیا دهن سمائی رہتی ہے اک خموشی سی چھائی رہتی ہے دل سے بھی گفتگو نہیں ہوتی میں تجھے چاہتا نہیں لیکن پھر بھی رہ رہ کے میرے کانوں میں گونجتی ہے تری حسیں آواز جیسے نادیدہ کوئی بجتا ساز ہر صدا ناگوار ہوتی ہے دل کی دھڑکن بھی بار ہوتی ہے ان سکوت آشنا ترانوں میں میں تجھے چاہتا نہیں لیکن پھر بھی شب…
Read Moreاوور کوٹ …….. غلام عباس
جنوری کی ایک شام کو ایک خوش پوش نوجوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا اور چیئرنگ کراس کا رخ کر کے خراماں خراماں پٹری پر چلنے لگا۔ یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا۔ لمبی لمبی قلمیں، چمکتے ہوئے بال، باریک باریک مونچھیں، گویا سرمے کی سلائی سے بنائی گئی ہوں۔ بادامی رنگ کا گرم اوور کوٹ پہنے ہوئے جس کے کاج میں شربتی رنگ کے گلاب کا ایک ادھ کھلا پھول اٹکا ہوا، سر پر سبز فلیٹ ہیٹ ایک خاص…
Read Moreفرشتہ پھر نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہین عباس
فرشتہ پھر نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی بس ایک بارآیا تھا اپنے کام پر اور کام بھی کیا تھا یہی برّ اق بندوں کو خبر نامہ سنانا نور کا خاکہ اڑانا فرش پر سے مٹی کے ڈھیلے اٹھا کر پھر پٹخ دینا زمیں پر یوں نشانہ باز حکموں کو بجا لانا کہ جیسے نیزہ باز آیا ہو مشقوں سے گزر کر اِس دہانے پر کہ سب سیر و شکار !آساں کیے جائیں الف اَحرام ہو یا لام لنگی ہو یا اَبجد سے کوئی باہر ہو مونس ستر کا …ہمدرد‘ دونوں شرم…
Read More