اعجاز گل : ایک تاثر اعجاز گل صاحب کا شعری مجموعہ ’’گمان آباد‘‘ ایک جہانِ دیگر کا نام ہے اور میں ابھی ابھی اس جہانِ دیگر کی سیر پیدل ہی کر آیا ہوں۔پیدل اس لیے کہ پی۔ڈی۔ایف پر کتاب کا مطالعہ کرنا دنیا کی سیر پیدل کرنے کے مترادف ہی ہے۔ نہایت تھکا دینے والا سفر تھا لیکن شکر ہے میں نے شوق سے طے کیا۔ اس جہان دیگر میں اعجاز گل صاحب نے حیرت و استعجاب اور گمان و یقین کے ایسے ایسے دریا بہائے ہیں کہ ہر طرف…
Read MoreMonth: 2021 مارچ
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اک لمحہء عرفان
اک لمحہء عرفان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوستو مجھ کو نہیں دعوئے پیغام بری ہاں مگر کشف کے لمحات سے گُزری میں بھی شب عجب سحر کے عالم میں مری آنکھ کھلی کہ زباں پر تھی مرے موت کی سی بے مزگی چادرِ سرد پہ اک نعش کی مانند تھی میں اتنا بوجھل تھا لہو نبض بہت مدھم تھی اس گھڑی سر میں نہ تھا دن کے خیالوں کا ہجوم مری سانسوں میں مری ذات سمٹ آئی تھی بعد از مرگ کے پیماں مرے دل میں گونجے اور اس لمحہ میں ان سب…
Read Moreاشرف سلیم ۔۔۔ تو سوچتا ہے جہاں تک وہاں سے آگے ہے
تو سوچتا ہے جہاں تک وہاں سے آگے ہے مرا سفر ترے وہم و گماں سے آگے ہے تعلقات، مراسم بس اب یہیں تک ہیں مرا ٹھکانہ ترے آستاں سے آگے ہے ابھی تو ہجر کی شدت مرے وجود میں ہے ترا وصال کہیں لا مکاں سے آگے ہے
Read Moreمیرزا واجد حسین یاس یگانہ
جوابِ حسنِ طلب بے دلوں سے بن نہ پڑا حیا سے گڑ گئے جب نام آ گیا دل کا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ آگے جمالِ یار کے معذور ہوگیا
آگے جمالِ یار کے معذور ہوگیا گُل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہوگیا اک چشمِ منتطر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہ جوں زخم تیری دوری میں ناسور ہوگیا پہنچا قریب مرگ کے وہ صیدِ ناقبول جو تیری صید گاہ سے ٹک دور ہوگیا اُس ماہِ چاردہ کا چھپے عشق کیوں کہ آہ اب تو تمام شہر میں مشہور ہوگیا شاید کسو کے دل کو لگی اُس گلی میں چوٹ میری بغل میں شیشۂ دل چور ہوگیا دیکھا جو میں نے یار کو وہ میرؔ ہی نہیں تیرے…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ فرہاد ہاتھ تیشے پہ ٹک رہ کے ڈالتا
فرہاد ہاتھ تیشے پہ ٹک رہ کے ڈالتا پتھر تلے کا ہاتھ ہی اپنا نکالتا بگڑا اگر وہ شوخ تو سنیو کہ رہ گیا خورشید اپنی تیغ و سپر ہی سنبھالتا یہ سر تبھی سے گوے ہے میدان عشق کا پھرتا تھا جن دنوں میں تو گیندیں اچھالتا بِن سر کے پھوڑے بنتی نہ تھی کوہ کن کے تئیں خسرو سے سنگِ سینہ کو کس طور ٹالتا چھاتی سے ایک بار لگاتا جو وہ تو میر برسوں یہ زخم سینے کا ہم کو نہ سالتا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ جب جنوں سے ہمیں توسل تھا
جب جنوں سے ہمیں توسل تھا اپنی زنجیر پا ہی کا غُل تھا بسترا تھا چمن میں جوں بلبل نالہ سرمایۂ توکل تھا یک نِگہ کو وفا نہ کی گویا موسمِ گل صفیرِ بلبل تھا اُن نے پہچان کر ہمیں مارا مُنھ نہ کرنا اِدھر تجاہل تھا اب تو دل کو نہ تاب ہے نہ قرار یادِ ایام جب تحمل تھا جا پھنسا دامِ زلف میں آخر دل نہایت ہی بے تامُّل تھا یوں گئ قد کے خم ہوئے جیسے عمر اک رہروِ سرِ پل تھا خوب دریافت جو کیا…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ حال دل میر کا رو رو کے سب اے ماہ سنا
حال دل میر کا رو رو کے سب اے ماہ سنا شب کو القصہ عجب قصۂ جاں کاہ سنا کوئی ان طوروں سے گزرے ہے ترے غم میں مری گاہ تُو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا خوابِ غفلت میں ہیں یاں سب تُو عبث جاگا میر بے خبر دیکھا اُنھیں میں جنھیں آگاہ سنا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا آ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ ہو سکے تو شمع ساں دیجے رگِ گردن جلا بدر ساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہِ نو دامن جلا کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں سے گیا بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب…
Read More