اکرم کنجاہی ۔۔۔ آج ذرّے ہیں زمیں کے وہ جو ہارے ہوئے ہیں

آج ذرّے ہیں زمیں کے وہ جو ہارے ہوئے ہیں جیت جن کا بھی مقدّر تھی ستارے ہوئے ہیں ضبط گرداب نے کس جرم میں کشتی کر لی میری آنکھوں سے تو اوجھل بھی کنارے ہوئے ہیں وہ جو بیتاب تمنّا تھے زمانے بھر کے چاند سورج سے فلک زاد تمہارے ہوئے ہیں دم تو پتھر کا نکل جاتا ہے آزار کے ساتھ کیا تعجب ہے جو دل درد کے مارے ہو ئے ہیں زلف جاناں کی سنواریں تو ہے زیبا صاحب زلف جیون کی جو پہلے سے سنوارے ہوئے…

Read More

بانی ۔۔۔ نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں

نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں تیرا ہی جھونکا ہوں اے تیز ہوا، میں کیا ہوں رقصِ یک قطرۂ خوں، آپ کشش، آپ جنوں اے کہ صد تشنگیِ حرف و صدا، میں کیا ہوں ایک ٹہنی کا یہاں اپنا مقدّر کیسا پیڑ کا پیڑ ہی گرتا ہے جدا،میں کیا ہوں اک بکھرتی ہوئی ترتیبِ بدن ہو تم بھی راکھ ہوتے ہوئے منظر کے سوا، میں کیا ہوں تو بھی زنجیر بہ زنجیر بڑھا ہے مری سمت ساتھ میرے بھی روایت ہے، نیا میں کیا ہوں کون ہے جس…

Read More

فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اک پل ٹھٹھکا میرے دوار

اک پل ٹھٹھکا میرے دوار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک پل ٹھٹکا میرے دوار بس ایسا ہے جیون ۔۔۔۔۔ جیسے گھر بھر میں پھیلی چُپ جیسے دھول جمی شیشوں پر جیسے راکھ کے اُڑتے ذرے جیسے گیت کے بکھرے پنے جیسے گلے میں چبھتے آنسو جیسے اپنے دل کی دھڑکن جیسے پوس کی دھوپ اکیلی جیسے سونا سونا آنگن جیسے تن میں چھپا سناٹا جیسے پیاسا ماس برہن کا جیسے جاتے دن کی اُداسی جیسے آتی رین کا دھڑکا جیسے نیر سے نین نہائے جیسے اندر دھنش دھُندلائے جیسے آس کمل ٹھٹھرائے ایسے…

Read More