ابوطالب انیم ۔۔۔ رکی ہوئی موج ہے کہ تیراک رک گئے ہیں

رکی ہوئی موج ہے کہ تیراک رک گئے ہیں لہو کے طوفان زیرِ پوشاک رک گئے ہیں تمام معروض میری آنکھوں میں گندھ گئے تھے مگر اچانک شعور کے چاک رک گئے ہیں یہ اونچے اونچے پہاڑ جیسے زمیں کے جوہر بس ایک لمحے کو ہو کے بے باک رک گئے ہیں وہ قہقہوں کا ہجوم تھا ہر طرف کہ آنسو فقط تبسم کو کرکے نم ناک رک گئے ہیں سو چاک پر خود ہی اب مجھے گھومنا پڑے گا وہ ہاتھ تو گوندھ کر مری خاک رک گئے ہیں…

Read More

مفرور ۔۔۔ فہمیدہ ریاض

مفرور ۔۔۔۔۔ کہیں تو ڈھونڈو سُراغ ان کا کہاں ہے دل اور دماغ ان کا ابھی تمہارے محاصروں میں گھرا ہے تاراج باغ ان کا وہیں کسی راہ پر بچھی اُن کی چشمِ نم ہے کٹا ہوا ہاتھ آج بھی بستۂ قلم ہے گلوئے زیبِ رسن سے لپٹی ہیں ان کی بانہیں جو گھر سے نکلے  کہ جیسے دھرتی کے دل سے آہیں جہاں تھے مسدود سارے رستے وہیں پہ اُن کے قدم گڑے ہیں تمہارے بوٹوں تلے وہیں ان کے دل پڑے ہیں بس ایک دل تھا ، بس…

Read More

افضل خان ۔۔۔ جس جگہ جا کے لگے شور شرابہ اچھا

جس جگہ جا کے لگے شور شرابہ اچھا شہر میں اک بھی نہیں چائے کا ڈھابہ اچھا ہاں مجھے اندھی عقیدت ہے، نہ یوں بحث کرو میں بھی کہتا ہوں کہ تھا عہدِ صحابہ اچھا دونوں جانب سے رہا کرتا ہے سیلاب کا خوف ہے مری دشت مزاجی کو دوآبہ اچھا شہر والوں کے لیے منع ہے جنگل میں شکار پیشِ اشجار نہیں خون خرابہ اچھا مدحِ جاناں کے لیے ہجر ضروری ہے مجھے میں جدا ہو کے ملاتا ہوں قلابہ اچھا کان دھرتا نہ تھا گھر میں کوئ میری…

Read More

نوشاد منصف ۔۔۔ ایسے نہ آپ دیکھیے ترچھی نگاہ سے

ایسے نہ آپ دیکھیے ترچھی نگاہ سے پرہیز کر رہے ہیں ابھی ہم گناہ سے ہو گا ضرور ثانئِ یوسف کوئی وہاں اک روشنی سی پھوٹتی ہے دل کے چاہ سے رکھنا پڑے گی دو سے بہ ہر طور دوستی زاہد سے شیخ سے یا گداگر سے، شاہ سے چہرے کی گرد پاؤں کے چھالے کہیں ہمیں منزل بہت قریب ہے پلٹو نہ راہ سے چارہ گرو! دوا ہے یہی آزماؤ پھر حالت سنبھل رہی ہے مرے دل کی، آہ سے اک دور تھا کہ روشنی زیبِ بدن رہی اک…

Read More