باکرہ ۔۔۔۔ آسماں تپتے ہوئے لوہے کی مانند سفید ریگ سوکھی ہوئی پیاسے کی زباں کی مانند پیاس حلقوم میں ہے، جسم میں ہے، جان میں ہے سر بہ زانو ہوں جھلستے ہوئے ریگستاں میں تیری سرکار میں لے آئی ہوں یہ وحشِ ذبیح مجھ پہ لازم تھی جو قربانی، وہ میں نے کر دی اُس کی اُبلی ہوئی آنکھوں میں ابھی تک ہے چمک اور سیہ بال ہیں بھیگے ہوئے خوں سے اب تک تیرا فرمان یہ تھا اِس پہ کوئی داغ نہ ہو سو یہ بے عیب اچھوتا…
Read MoreMonth: 2021 مارچ
پروفیسرحفیظ الرحمٰن خان ۔۔۔ مولانا الطاف حسین حالی کی ’’شواہدالالہام‘‘کا تحقیقی مطالعہ
مولانا الطاف حسین حالی کی’’شواہدالالہام‘‘کا تحقیقی مطالعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواجہ الطاف حسین حالی ،دنیاےاردو شعروادب میں روشنی کا مینار،افق علم وفن کا رخشندہ ستارہ جس کی تابندگی میں انداز کہن بھی نو بھی ہے۔بہ حیثیت انسان عاجزی وانکسار ،تہذیب و شائستگی اور پختہ کاری کا مرقع۔عام طور پر مولانا کو سرسید کی علی گڑھ تحریک کا رکن رکین اور ارکان خمسہ کا فرداول قرار دیا جاتا ہے۔لیکن سچی بات یہ ہے کہ شعروادب اور فکری ونظری مسائل میں ان کا منفرد انداز نظربھی ہے۔تخلیق شعر میں کسی کے خوشہ چیں نہیں۔نثری…
Read Moreعلی ارمان ۔۔۔ کیا ہوا دور جو دریاؤں سے جل ہے میرا
کیا ہوا دور جو دریاؤں سے جل ہے میرا جھیل کی طرح میں خوش ہوں کہ کنول ہے میرا کچھ بھی کہتی رہے یہ رات مرے بارے میں جگمگاتا ہوا دل ردعمل ہے میرا زندگی کھیل تو ہے اور کسی کا لیکن اس کہانی میں بہت ردوبدل ہے میرا ادھر آیا ہوں میں سیاحتِ ہستی کے لیے شہر ِناپید کا ہوں ملک اجل ہے میرا وسعتِ وقت کے لہراتے ہوئے دھوکے میں یہی وعدہ یہی ٹوٹا ہوا پل ہے میرا اب تڑپتا ہے مرے ایک اشارے کے لیے وُہ سمجھتا…
Read Moreمیر اثر
کبھو کرتے تھے مہربانی بھی آہ وہ بھی کوئی زمانا تھا
Read Moreخالد احمد ۔۔۔ اے دستِ ہنر تو نے فقط لفظ چنے ہیں
عابد سیال ۔۔۔ نہ اب وہ مینائے دل فریبی
اشرف سلیم ۔۔۔ نئے چراغ جلانے سے روک سکتا تھا
نئے چراغ جلانے سے روک سکتا تھا مجھے وہ ہاتھ ملانے سے روک سکتا تھا تمام عمر کی تنہائی لے گیا مجھ سے وہ شخص کرب اٹھانے سے روک سکتا تھا وہ چاہتا تو مجھے اس نئی محبت کے رواج و رسم نبھانے سے روک سکتا تھا مری کہانی میں کردار کوئی ایسا نہ تھا مگر وہ اشک بہانے سے روک سکتا تھا
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ گزار زندگی میری گزر گیا ہے وقت
گزار زندگی میری گزر گیا ہے وقت مجھے ہی مار گیاہے کہ مر گیا ہے وقت میں ایک آن میں صدیاں گزار بیٹھاہوں مجھے سنبھال کے رکھنے سے ڈر گیا ہے وقت خیال ہے کہ زمانے کی گردشوں میں ہے یہاں سے ہوکے نہ جانے کدھر گیا ہے وقت خلا میں تیرگی کی وسعتیں فزوں تر ہیں جو کہکشاؤں کو لے کر اُدھر گیا ہے وقت میں اپنے سائے کے قدموں تلے ہی روندا گیا جو سر پہ دھوپ سی یہ تان کر گیا ہے وقت لکیریں ہاتھ کی شاخیں…
Read Moreمیرزا واجد حسین یاس یگانہ
ازل سے اپنا سفینہ رواں ہے دھارے پر ہُوا ہنوز نہ گرداب کا نہ ساحل کا
Read Moreقابل اجمیری
سکونِ دل کی تمنا سے فائدہ قابلؔ نفس نفس غمِ جاناں کی داستاں ہے ابھی
Read More