حسن عباس رضا ۔۔۔ کتنی ہم لکھ پائے، کتنی بھول گئے

کتنی ہم لکھ پائے، کتنی بھول گئے لاشیں گنتے گنتے، گنتی بھول گئے یاد نہیں کب خوابوں کی تدفین ہوئی دن اور چہلم کیا، ہم برسی بھول گئے شہرِ وفا میں پیار کا ایسا کال پڑا اہلِ محبت رسمِ وفا ہی بھول گئے مائی کلاچی! خبر تو لے اُن بیٹوں کی مستی میں جو تیری ہستی بھول گئے جہاں پہ شام انگڑائی لے کر جاگی تھی ہم وہ گلیاں، اور وہ بستی بھول گئے حسنؔ! یہاں اِک شہرِ نگاراں ہوتا تھا کس نے اُس کی مانگ اُجاڑی، بھول گئے

Read More

خزاں ۔۔۔ منیر نیازی

خزاں ۔۔۔۔۔ ہوا کی آواز خشک پتوں کی سرسراہٹ سے بھر گئی ہے روش روش پر فتادہ پھولوں نے لاکھوں نوحے جگا دیے ہیں سلیٹی شامیں، بلند پیڑوں پہ غل مچاتے سیاہ کووں کے قافلوں سے اٹی ہوئی ہیں ہر ایک جانب خزاں کے قاصد لپک رہے ہیں ہر ایک جانب خزاں کی آواز گونجتی ہے ہر ایک بستی کشاکشِ مرگ و زندگی سے نڈھال ہو کر مسافروں کو پکارتی ہے کہ ۔۔۔ "آئو مجھ کو، خزاں کے بے مہر، تلخ احساس سے بچائو"

Read More

ممتاز اطہر ۔۔۔ تمہاری راہ کو کھونا نہ تھا ، سو خاک رہے

تمہاری راہ کو کھونا نہ تھا ، سو خاک رہے ہمیں  ہوا  کو بلونا نہ تھا ، سو خاک رہے ہم اپنی ذات میں دمکا کیے ہیں ، دَم سے ترے ہماری خاک میں سونا نہ تھا ، سو خاک رہے ہم  اپنے ہونے  نہ ہونے کے درمیان جیے براٸے نام تو ہونا  نہ تھا ، سو خاک رہے ہمارے بچے ،  ہمیں توڑنے بنانے لگے ہمارے گھر میں کھلونا نہ تھا ، سو خاک رہے ہر ایک شب کو رہے ، آسمان تانے ہوئے ہمارے پاس بچھونا نہ تھا…

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔مولا خشک آنکھیں تر کر دے

مولا خشک آنکھیں تر کر دے جھولی جھولی موتی بھر دے شہپر دے بازو کٹنے پر اونچا رہنے والا سر دے انکھوے پھر سے پھوٹ رہے ہیں زخمی ڈالی کو خنجر دے آگ زنوں کے دل کو پانی ہم بے گھر لوگوں کو گھر دے خوشبو لٹ جاتی ہے ساری رنگ نہیں ہم کو پتھر دے مر جائیں گے بے تیشہ بھی تیشہ دے تو دستِ ہنر دے تتلی مانگ رہی ہے خوشبو پھول دعا کرتے ہیں پردے

Read More

سحر تاب رومانی ۔۔۔ جیب سے حادثہ نکالوں گا

جیب سے حادثہ نکالوں گا میں کوئی راستہ نکالوں گا لوگ نقشوں ہی سے مدد لیں گے میں تِرا نقشِ پا نکالوں گا اُس کو ماروں گا شعر لکھ لکھ کر اُس کی ساری ہَوا نکالوں گا کچھ نئے رنگ بھر کے غزلوں میں اک نیا ذائقہ نکالوں گا آپ کا قرب چاہتا ہوں میں سو ذرا فاصلہ نکالوں گا میں نے اِس بار سوچ رکھا ہے راستہ تیسرا نکالوں گا مستقل خواب دیکھنے ہیں مجھے آنکھ سے رتجگا نکالوں گا

Read More

حنیف ترین ۔۔۔ آئیے آسماں کی اور چلیں

آئیے آسماں کی اور چلیں ساتھ لے کر زمیں کا شور چلیں چاند الفت کا استعارہ ہے جس کی جانب سبھی چکور چلیں یوں دبے پاؤں آئی تیری یاد جیسے چپکے سے شب میں چور چلیں دل کی دنیا عجیب دنیا ہے عقل کے اس پہ کچھ نہ زور چلیں سبز رت چھائی یوں ان آنکھوں کی جس طرح ناچ ناچ مور چلیں تم بھی یوں مجھ کو آ کے لے جاؤ جیسے لے کر پتنگیں ڈور چلیں

Read More

ڈاکٹر شفیق آصف ۔۔۔ شدتِ غم سے نکھر جائیں گے ہم

شدتِ غم سے نکھر جائیں گے ہم تم یہ سمجھے ہو، بکھر جائیں گے ہم گفتگو ہو گی در و دیوار سے شب گئے جب اپنے گھر جائیں گے ہم آپ پھر آئیں گے کیا سورج لیے جب اندھیروں میں اتر جائیں گے ہم بارہا چوما فرازِ دار کو کون کہتا ہے کہ ڈر جائیں گے ہم جسم سے اک دن نکل جائے گی جان پھر کہیں یہ بوجھ دھر جائیں گے ہم اپنے دل کی بات دل میں ہی لیے کربِ ہستی سے گزر جائیں گے ہم

Read More