پچھلی صفوں کے لوگ ۔۔۔ یونس متین

پچھلی صفوں کے لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرے دشمن! ذرا تلوار میری تھامنا میں سر اٹھالائوں جوکٹ کرپچھلی صف میں گر گیا تھا ہاں ابھی تیرے مقابل ہوں ابھی بازو سلامت ہیں جو اپنے ضعف سے دہشت زدہ ہوں آئنوں کی دوستی ان کے لیے اچھی نہیں ہوتی میں اپنا آئنہ بھی ساتھ لایا ہوں یہ مٹی ہی زرہ بکتر ہے میری جب مجھے اک خواب کی ٹوٹی ہوئی دیوار میں مٹی کی بیوہ آنکھ کہتی ہے کہ تم پچھلی صفوں  میں سارے جوہر بھول آئے ہو سبھی رہد اریوں میں برف…

Read More

فضل گیلانی ۔۔۔۔۔ نہ دیکھنا تھا جو پیہم دکھائی دیتا ہے

نہ دیکھنا تھا جو پیہم دکھائی دیتا ہے عجیب خوف کا عالم دکھائی دیتا ہے خرابی تیری نظر میں نہیں ہے ،دل میں ہے اسی لیے تو تجھے کم دکھائی دیتا ہے یہ اب جو بادِ صبا بھی سموم جیسی ہے فلک زمین سے برہم دکھائی دیتا ہے پتنگیں اڑنے لگی ہیں چھتوں پہ چاروں طرف بہار آنے کا موسم دکھائی دیتا ہے سبھی کی آنکھ نہیں ہوتی دیکھنے والی کسی کسی کو مرا غم دکھائی دیتا ہے گزر گیا ہے چمن سے ابھی ابھی سیّد کہ برگ و بار…

Read More

بانی ۔۔۔۔۔ آج کیا لَوٹتے لمحات میسّر آئے

آج کیا لَوٹتے لمحات میسّر آئے یاد تم اپنی عنایات سے بڑھ کر آئے آشنائی ترے جلووں سے مگر کیا تھی ضرور اک نظر دیکھ لیں ہم رونقیں، جی بھر آئے کیا خبر ترکِ تعلّق ہی اسے ہو منظور اب گِلہ کرتے بھی اِس جی کو بہت ڈر آئے تو ہی کچھ کہہ کہ ترے عہدِ وفا سے پہلے غم وہ کیا تھا کہ ہم اک عمر بسر کر آئے تیرے قصّے نہیں کم یوں تو رلانے کے لیے اک اچٹتا سا تعلّق بھی میسّر آئے اپنی خاموش نگاہی کو…

Read More

ارشد عباس ذکی… آنکھ سے اشک بہاتے ہیں دعا کرتے ہیں

آنکھ سے اشک بہاتے ہیں دعا کرتے ہیں ہم فقیر آتے ہیں، جاتے ہیں، دعا کرتے ہیں جو نئے لوگ محبت کی طرف آتے ہیں ان کو ہم راہ دکھاتے ہیں دعا کرتے ہیں لوگ تو ہاتھ اٹھاتے ہیں ستم کرنے کو ہم اگر ہاتھ اٹھاتے ہیں دعا کرتے ہیں دوست آباد رہیں اور عدو شاد رہیں ہاتھ زخموں کو لگاتے ہیں دعا کرتے ہیں ہم سے درویش صفت خاک نشیں لوگ زکی راہ سے سنگ ہٹاتے ہیں دعا کرتے ہیں

Read More

عابد سیال ۔۔۔ سننے والا میں کسی تازہ بہانے کا نہیں

سننے والا میں کسی تازہ بہانے کا نہیں نامرادانہ اب اس شہر سے جانے کا نہیں بات جو سہج بنائی تھی وہ بے ڈھب نکلی لفظ جو چن کے بٹھایا تھا ٹھکانے کا نہیں کارِ بے کار کی تکرار لگے میل ملاپ مسئلہ اور ہے کچھ ، نِبھنے نبھانے کا نہیں دل اگر اپنی سبک چال حریفانہ چلے دور تک کوئی مقابل نظر آنے کا نہیں تم یہ کس زعم میں پھسلے تھے مِری مُٹھی سے گر پڑی چیز پلٹ کر میں اٹھانے کا نہیں اس کھنڈر پر نہیں رکنا…

Read More