منٹو کا ایک نادر مضمون
سعادت حسن منٹو نے ایک جگہ لکھا ہے ’میں جانتا ہوں سعادت حسن ایک دن مر جائے گا۔ مگر منٹو کبھی نہیں مر سکتا۔‘
یہ ایک حقیقت ہے کہ سعادت حسن 18جنوری 1955ءکو مر گیا اور اسے لاہو رمیں دفن کر دیا گیا۔ لیکن منٹو نہ اس تاریخ کو مرا تھا اور نہ آئندہ کبھی مرے گا۔ وہ مر بھی کیسے سکتا ہے اس کی تحریں آج بھی سماج کو اپنے مسائل کا احساس دلاتی ہیں، اس کے رو برو آئینہ رکھتی ہیں جس میں وہ اپنی مکروہ شکل دیکھ سکتا ہے۔ انسان کے ذہن کو جھنجھوڑتی ہیں اور اس کے جسم و جاں میں ارتعاش پیدا کر دیتی ہیں۔ پورے وجود کو لغزش سے دوچار کر دیتی ہیں۔ ا س لیے کہ یہ زندگی کی حقیقتیں ہیں اور منٹو نے صرف حقیقت پیش نہیں کی بلکہ اس نے اپنی کہانیوں کے ذریعہ حقیقتوں کی حقیقت کی تلاش کی۔ نصف سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ یہ تحریریں باسی ہوئی ہیں نہ ان پر میل آیا ہے نہ ان کی چمک ماند ہوئی ہے تو پھر ایسی کہانیوں کو فراموش کیوں کر کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جتنا عرصہ گزرتا جا رہا ہے اتنا ہی ان کی معنویت میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔
منٹو کی کہانیاں روح میں ارتعاش کیوں پیدا کر دیتی ہیں؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ انسانوں کے ساتھ سفر کرتی ہیں یا اس لیے کہ سماج کے متوازی راستے پر سفر کرتی ہیں۔ سماج نے تلخیوں اور کلفتوں کی شکل میں منٹو کو جو کچھ دیا تھا اس میں اسی شکل بلکہ اس سے کہیں زیادہ خوبصورت شکل دے کر سماج کو واپس لوٹا دیا۔
منٹو نے سماج کو کیا دیا؟ وہ محض 42 برسوں میں موت کے منہ میں سما گیا۔ اس دوران اس نے سماج کو 250کہانیاں، ناول، ڈرامے، خاکے، افسانچے، کالم اور انشائیے دیے۔ 20برسوں میں اس سے زیادہ کوئی کیا دے سکتا ہے۔ اس نے تو اپنی زندگی کا ہر لمحہ لکھنے پڑھنے میں ہی گزارا۔
حال ہی میں مجھے منٹو کا لکھا ہوا ایک مختصر سوانحی مضمون پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ سوانحی مضمون ایک نادر تحریر ہے۔ اس مضمون کی شان نزول یہ ہے کہ ادارہ فیروز سنز لاہو رکے ڈاکٹر عبد الوحید اپنے معروف طباعتی و اشاعتی ادارے فیروز سنز لمیٹڈ کی جانب سے شائع ہونے والے نثرنگارو ں اور شاعروں کے ایک انتخاب کے لیے متعدد صاحب طرز اہل قلم سے اپنے خیالات لکھ بھیجنے نیز اپنی تصویر عطا کیے جانے کی تحریک کی تھی۔ عبد الوحید کے کہنے پر تو منٹو نے کوئی توجہ نہیں دی لیکن پھر شوکت تھانوی نے اس سلسلہ میں ایک سفارشی خط لکھا تھا اور منٹو سے فرمائش کی تھی کہ وہ اپنی سوانح اور تصویر بھیج دیں۔ اس کے جواب میں منٹو نے یہ سوانحی خاکہ لکھا تھا۔ لیکن دلچسپ بات ہے کہ یہ خاکہ ڈاکٹر عبد الوحید کی مرتب کردہ کسی کتاب یا انتخاب یا تذکرے میں شامل نہیں ہے بلکہ 50 برسوں تک ان کی اس تحریر کا کسی کو پتا ہی نہیں تھا۔ البتہ منٹو کی 50ویں برسی پر ڈاکٹر رشید امجد نے اسے اسلام آباد کی نمل یونی ورسٹی کے جریدے ”دریافت“ میں شامل کیا۔ یعنی لکھے جانے کے بعد اس کی اشاعت 62 برسوں بعد ہو سکی۔
منٹو کی وہ تحریر یہ ہے چونکہ یہ تحریر ان کے اپنے بارے میں ہے اور اب تک زیادہ بڑے حلقے تک نہیں پہنچ سکی ہے۔
”دوستو تم یہ سن کر شاید حیران ہو گے کہ میں نے تا حال اپنی زندگی میں 31 بہاریں دیکھی ہیں۔ میری پیدائش پنجاب کے تجارتی مرکز امرتسر میں 11مئی 1912ءکو ہوئی۔
کھاتے پیتے گھر میں بچوں کی تربیت بہت خوب ہو جاتی ہے لیکن میں اپنے گھریلو معاملات کی پیچیدگیوں میں کچھ اس بری طرح سے گھرا ہوا تھا کہ امرتسر میں بمشکل انٹرنس کا امتحان پاس کر سکا۔
میرا ابتدائی دور اگر چہ خوش اثر تھا لیکن قبلہ ام والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد خاندانی حالات کے مد نظر چند دشواریاں آگئیں جن سے بخوبی عہدہ برآ ہونا مجھ ایسے صغیر سن کے لیے حد سے زیادہ مشکل تھا۔ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ طبعیت میں آوارگی کی نمود ہو چکی تھی۔ لیکن سایہ پدری کا سر سے اٹھ جانا مجھے اپنی حیثیت جانچنے کا داعی ہوا۔
والدہ محترمہ سے اجازت حاصل کر کے اکناف کشمیر میں بغرضِ بحالیِ صحت گیا۔ بنوت میں کچھ مدت قیام کیا۔ طبیعت میں رنگینیوں نے جھلک دکھائی، دل کو مضبوط کیاکہ کسی قیمت پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے دنیا اور دنیا والوں کو اپنی طرف جھکاؤں گا۔
گھر لوٹا تو والدہ ماجدہ سے حصول تعلیم کا ارادہ بیان کیا۔ چنانچہ علی گڑھ میں بغرضِ استفادہ بھیجا گیا۔ بچپن کی آزادی طبع کچھ آب و ہوا کی نامواقفت نے بستر علالت پر لٹا دیا۔ چار ناچار تعلیم پانے سے اجتناب کیا۔
امرتسر واپس آنے پر کتاب بینی کا شوق بدستور بڑھتا گیا۔ چنانچہ یہ بات کہہ دینے میں مجھے کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ میں نے روسی ادب میں زیادہ دلچسپی لینا شروع کر دی۔
اسی اثنا میں مجھے اکثر اردو اخبارات میں خدمت زبان سر انجام دینے کا اتفاق ہوا۔ بسااوقات میرے مضامین کو سراہا گیا۔ بلکہ بعض احباب نے میری حوصلہ بندی کے لیے تعریفی جملے بھی کہے۔ جن سے میری خواہشِ انشا پردازی میں معتدبہ اضافہ ہوا۔
میں آج ان مضامین کو نیم جان محسوس کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ صاحب نظر احباب نے میری حوصلہ افزائی کے لیے میری مضامین کو سراہا ․․․․․مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں اپنی تحاریر کے ساتھ کسی دوسرے شغل سے بھی مطمئن نہیں اور اگر اسے مبالغہ پر محمول نہ کیا جائے تو آج بھی میں کسی کوشش پر مطمئن نہیں ہوں۔
”ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں“
اس میں کوئی کلام نہیں کہ میں نے ہر اس پر زہ کاغذ تک سے فائدہ اٹھایا جس میں کسی بنئے نے بے کار دیکھ کر سودا باندھ کر مجھے دیا۔
مجھے مغربی اور مشرقی ادیبوں کی سینکڑوں کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ لیکن کوئی ایسی کتاب دستیاب نہ ہو سکی جس سے میرے تشنہ مزاج کو طمانیت حاصل ہو تی۔ میں نے کئی ایک کتابیں خود لکھ دیں، کئی افسانے، کئی ڈرامے اور متعدد مضامین ریڈیو کے ذریعہ سے نشر کیے گئے۔ اصحاب و عوام کی طرف سے مجھے پے در پے خطوط موصول ہوئے میری تعریفوں کے انبار لگا دیے گئے۔ بعض عقیدت مندوں نے تو مجھے اول صف کے ادیبوں میں لاکھڑا کر دیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں آج بھی اپنے دل میں اطمینان نہیں پاتا۔
میر اخیال ہے کہ جس منزل کی مجھے تلاش ہے ہنوز میری نظروں سے اوجھل ہے میں یہاں یہ بتانا بھول گیا ہوں کہ میں نے اردو زبان سے اسکول کے زمانے میں بے اعتنائی سے کام لیا تھا۔ مجھے اس وقت اردو کی ان ہمہ گیریوں کا علم تک نہ تھا جو ایک ہی صحبت میں صاحب دلوں کو گرویدہ بنا لیتی ہیں۔ میں اردو زبان کی اس مٹھاس سے نا آشنا تھا جو ذائقہ کو مدتوں اپنی تلاش میں سر گرداں رکھتی ہے اور میں اردو کی ہر دلعزیزی سے بھی کورا تھا جو اس کی ایک تھوڑی سی مدت میں دنیا بھر میں تیسرے درجہ کی زبان بن کر عوام کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ ان سب کمزوریوں کے باعث میں نے اپنے مطالعہ میں کوئی فروگزاشت نہ کی تھی۔
احباب نے مجھے سڑی، چھچھورا اور ضدی تک کہنے سے گریز نہ کیا۔ لیکن میں نے اپنے مزاج کی تکمیل میں دوستوں کی سنی ان سنی کر دی۔ اور اس وقت تک کرمکِ کتاب ہی بنا رہا جس وقت تک اپنی دوڑ دھوپ پر رائے زنی کر کے ندامت کا شکار ہونے سے بچ جانے کے قابل نہ ہو سکا۔
میرے ارادوں میں یہ بات داخل ہے کہ مجھے معراج ترقی کی طوالت ناپنے میں اپنی ساری زندگی صرف کرنی ہو گی اور تاحین حیات اس کوشش میں رہنا ہو گا کہ طمانیت قلب کے حصول کے لیے کوئی راستہ تلاش کر سکوں۔‘‘
منٹو کا یہ سوانحی خاکہ یہیں پر ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد وہ عبد الوحید صاحب کے نام خط میں لکھتے ہیں ”علاوہ بریں معروض خدمت کہ فی الحال میرے پاس کوئی فوٹو موجود نہیں ہے میں آج کل بمبئی کے ایک فلمی ادارے فلمستان میں معقول مشاہرے پر ملازم ہوں۔ اگر چہ دل کو اطمینان نصیب نہیں۔ مصروفیتوں کے مد نظر جلد تر تصویر نہ بھیج سکوں گا۔ لہذا فی الحال معذرت خواہ ہوں۔“
دلچسپ بات یہ ہے کہ منٹو کا یہ قلمی خط بھی بیش قیمت ہے کیوں کہ انجمن ترقی اردو ہند دہلی جہاں گوشہٴ خطوط میں مشاہیر ادب کے دو لاکھ سے زائد خطوط موجود ہیں وہیں انجمن کے ارباب کو اب تک سعادت حسن منٹو کا کوئی خط حاصل نہیں ہو سکا ہے۔
منٹو کی یہ قلمی تحریریں کراچی کے ڈاکٹر علی ثنا بخاری کی ملکیت ہیں۔ جو عہد حاضر میں منٹو کے ایک بہت ہی سیریس اسکالر ہیں اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہورسے سعادت حسن منٹو پر تحقیقی کام کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔
