یہ شعر ادا جعفری کے تخیل کی لطافت، احساس کی شدت، اور زبان کی نزاکت کا شاہکار ہے۔ شاعرہ نے تمنائے التفات کو ماہتابی اُمید کے استعارے میں ڈھال کر ایک ایسا منظر تخلیق کیا ہے جو اندھیری رات کے سینے میں چھپی روشنی کی تمنا کا پیکر بن جاتا ہے۔
Read MoreCategory: Uncategorized
جلیل عالی ۔۔۔ اِسے کیا نام دیں
جلیل عالی کی یہ نظم اہلِ قلم کی مصلحت گزینی، اخلاقی سودے بازی، اور حق گوئی سے انحراف پر ایک تلخ مگر نہایت شائستہ چوٹ ہے۔
جلیل عالی نے نرسری، پودے، درخت، دیے، اور جھونکوں جیسے فطری استعاروں کے ذریعے سماج کی فکری منافقت کو بے نقاب کیا ہے۔
یہ کلام ضمیر کے باغ میں اگنے والے سچ کے درختوں پر چلنے والی کلہاڑیوں کے خلاف ایک باوقار اور بے باک شاعرانہ مزاحمت ہے۔
محمد علوی ۔۔۔ گرہ میں رشوت کا مال رکھیے
یہ غزل محمد علوی کی مخصوص تہہ دار، علامتی اور نرم طنزیہ طرزِ بیان کی ایک خوبصورت مثال ہے، جہاں شاعر سماجی کجی، باطنی خلا، روحانی شکستگی اور انسانی فطرت کے تضادات کو سادہ مگر گہرے اشعار میں ڈھالتا ہے۔
Read Moreانصر حسن ۔۔۔ کہاں ہوں کون ہوں کیسا ہوں اور کیا ہوں میں
کہاں ہوں کون ہوں کیسا ہوں اور کیا ہوں میں مجھے نہ کوئی بتائے ، یہ جانتا ہوں میں عدو کے ساتھ عداوت نہ چل سکے گی مری مرے عزیز محبت کا دیوتا ہوں میں بْلا کے پاس فرشتے مجھے بٹھاتے ہیں یہ اور بات کہ تھوڑا بہت بْرا ہوں میں کچھ اس لئے بھی ڈراتے ہیں یہ ڈکیت مجھے کہ ہر لْٹی ہوئی بستی کا ہمنوا ہوں میں سلام کر کے تمہاری دراز پلکوں کو تمہاری جھیل سی آنکھوں میں کھو گیا ہوں میں بْروں کے ساتھ بھی اپنے…
Read Moreاصغر علی بلوچ ۔۔۔ یوں تو ہنستے ہنساتے رہتے ہیں
یوں تو ہنستے ہنساتے رہتے ہیں زخم دل کے چھپاتے رہتے ہیں یہ ہے دنیا سدا رہے گی یونہی لوگ یاں آتے جاتے رہتے ہیں دوست ہوتے تھے جو کبھی اپنے آج کل منہ چھپاتے رہتے ہیں وقت ہوتا ہے ہم نہیں ہوتے وقت ایسے بھی آتے رہتے ہیں ریت اندر کی سمت گرتی ہے ہم جو طوفاں اٹھاتے رہتے ہیں تو سنے یا نہیں سنے مرے دوست ہم ترے گیت گاتے رہتے ہیں اس قدر آگ ہے یہاں اصغر اپنا دامن بچاتے رہتے ہیں
Read Moreمحمود شام
بس ایک اپنے ہی قدموں کی چاپ سنتا ہوں میں کون ہوں کہ بھرے شہر میں بھی تنہا ہوں
Read Moreافتخار شوکت ۔۔۔ اس کی باتیں سنا رہی ہے ہوا
اس کی باتیں سنا رہی ہے ہوا مجھ کو پاگل بنا رہی ہے ہوا بنتے جاتے ہیں نقش پانی پر اپنا جادو دکھا رہی ہے ہوا وا کیے بیٹھا ہوں دریچۂ دل اس کی یادوں کی آ رہی ہے ہوا بات سنتا نہیں کوئی اس کی کب سے در کھٹکھٹا رہی ہے ہوا شور جنگل کا سن کے لگتا ہے مجھ کو شاید بلا رہی ہے ہوا دے رہی ہے تسلی جھوٹی مجھے آنسوؤں کو سکھا رہی ہے ہوا دیر سے بے قرار لگتی ہے خشک پتے اڑا رہی ہے…
Read Moreمظہر امام ۔۔۔ دیکھو اس شخص سے اتنی نہ محبت کرنا
دیکھو اس شخص سے اتنی نہ محبت کرنا بھول جائے نہ کہیں ہم سے وہ نفرت کرنا دوستی خوب نبھائی ہمیں تسلیم مگر دشمنی میں بھی نہ اب جان رعایت کرنا مصلحت پیش ہے ورنہ ہمیں سب ہے معلوم سر اٹھائے ہوئے دنیا سے بغاوت کرنا عہد کم ظرف کی باتوں کا برا مت جانو اس کی فطرت میں نہیں کوئی عنایت کرنا یہ برا وقت سہی یہ بھی گزر جائے گا ظلم کے آگے کبھی جھکنا نہ منت کرنا
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی
میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی شبنم کو پی رہی ہے کرن آفتاب کی بجھنے پہ دل ہے سانس میں بھی ضابطہ نہیں ظالم دہائی ہے ترے زورِ شباب کی منظور ہے خدا کو تو پہنچوں گا روزِ حشر چہرے پہ خاک مل کے درِ بوتراب کی صورت پرست میری نگاہوں نے اصل میں دل کیا مرے وجود کی مٹی خراب کی ہر پنکھڑی کے طاق میں ہنس ہنس کے صبح کو شمعیں جلا رہی ہے کرن آفتاب کی
Read Moreصفدر صدیق رضی ۔۔۔ نظم
وہاں سب اجنبی ہونگے مسلسل ڈھونڈتے رہ جائیں گے قوم اپنے رہبر کو کوئی امت پیمبر کو کئی ماں باپ بچوں کو کوئی بھائی بہن کو دوست یاروں کو محبت کرنے والے اپنے پیاروں کو کوئی بھی مل نہ پائے گا پر اس عالم میں بھی پہچان کر تجھکو میں تیرا ہاتھ بڑھ کر تھام لوں گا
Read More