ظہور چوہان ۔۔۔ اوّلیں اور آخری تنہا

اوّلیں اور آخری تنہا صاحبو ! ایک ہے ’’علی‘‘ تنہا رنگ سب اُڑ گئے ہَواؤں میں پھر تری یاد رہ گئی تنہا تیرگی میں بھی ہے شعاع ِ اُمید اِتنے غم اور اِک خوشی تنہا اُن مکانوں میں پھول کِھلتے ہیں دیکھتا ہے اُنہیں کوئی تنہا اُس سے بچھڑا تو پھر سمجھ آئی کیسے ہوتا ہے آدمی تنہا لوگ سب اپنے کام کاج میں گْم ہوتی جاتی ہے زندگی تنہا سب کو تنہائی سے بچانے لگا اور پھر ہو گیا وہی تنہا میرے چاروں طرف اندھیرا ہے بس یہاں پر…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ بہار

بہار ۔۔۔۔۔۔ کبھی میں نے محبت کے پرندوں کی نوا سنجی سے گھر خالی نہیں دیکھا کہاں کس نے دوامی مہربانی کا ہنر عالی نہیں دیکھا رہے غافل گلستاں سے کوئی بیدار خو خالی نہیں دیکھا لگائو ہے لگن رب کی صفاتی دلبری جس کو سدا میں نے بروئے کار دیکھا ہے محبت کو بہار آثار دیکھا ہے

Read More

محمد نور آسی ۔۔۔ دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں

دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں ہم ترا دیکھنا سمجھتے ہیں اس لیے ہم برے ہیں بتلاؤ ہم برے کو برا سمجھتے ہیں ہم پرندوں کو ساتھ لے آئے جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں عشق تھا ، صبر تھا کہ قربانی ہم کہاں کربلا سمجھتے ہیں وصل کیا ہے ؟ تمھیں نہیں معلوم! چل ، کسی روز آ ، سمجھتے ہیں قربتیں تو اسی کا پرتو ہیں ہم جسے فاصلہ سمجھتے ہیں لوگ منزل سمجھ کے بیٹھے ہیں ہم جسے راستہ سمجھتے ہیں تیرے قدموں کی لڑکھڑاہٹ کو ہم ،…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی

اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی آگے اللہ کی مرضی تھی پہلا پھول کھلا تھا دل میں لہو میں خوشبو دوڑ گئی تھی پہلا سانس لیا تھا سکھ کا پہلی بار ہوا اک چلی تھی اب کیا جانیں لیکن پہلے چاند پہ اک بڑھیا رہتی تھی یہ بازار کہاں تھا پہلے یہاں تو پہلے ایک گلی تھی پانی میں بجلی کا گھر تھا پتھر میں چنگاری چھپی تھی

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ سمن بروں سے چمن دولت نمو مانگے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

سمن بروں سے چمن دولت نمو مانگے ہوائے دامن گل گیسوؤں کی بو مانگے طراز شوخیٔ پا ہے گیاہ سبز کی مانگ خرام ناز کا انداز آب جو مانگے بکھرتی زلف سے ٹوٹے غرور شب کا طلسم سحر کا حسن فسون رخ نکو مانگے ورق ورق گل تر موج موج باد سحر بدن کا لمس ترے پیرہن کی بو مانگے شگاف کوہ نہ تھا تیشۂ وفا کی طلب یہ جوئے شیر ابھی اور کچھ لہو مانگے شکست شیشۂ پندار کی صدا بھی سن کرم کی بھیک جب اس سنگ دل…

Read More

عثمان حنیف ۔۔۔ میری خاطر ترے ہونٹوں سے دعا ہو جاتی ۔۔۔ उस्मान हनीफ़

میری خاطر ترے ہونٹوں سے دعا ہو جاتی بخدا شہر میں اک جنگ بپا ہو جاتی بس اسی وجہ سے دو بار مَیں ناکام ہوا پاس ہوتا مَیں ، تو استانی جدا ہو جاتی ایک ثروت تھا سمندر میں گرا ، ڈوب گیا وہ نہ گرتا تو یہاں موت رہا ہو جاتی خودکشی کرتے سمے خط نہیں چھوڑا میں نے ایسا کرنے سے مری موت خفا ہو جاتی ایک طرفہ کی محبت میں بکھرنے والے سب یہی کہتے ہیں اے کاش عطا ہو جاتی یہ گزارش ہے سخن کی کہ…

Read More

ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ حمد باری تعالیٰ

تِرے ذکر سے لمحہ لمحہ فروزاں تِرے نور سے ساری دُنیا فروزاں تِرے حکم سے جب نکلتا ہے سورج تو ہوتے ہیں سب باغ و صحرا فروزاں تخیّل تِرا جلوہ گر جب ہُوا ہے شبِ تِیرہ کو ہم نے دیکھا فروزاں مِرے خانۂ قلب کا ذرّہ ذرّہ کِیا تو نے ہی میرے مولا فروزاں درخشاں تِرے نور سے کہکشائیں ہے خورشید میں تیرا جلوہ فروزاں فقط اپنی قدرت سے اے میرے مولا! یہ عالم کیا تو نے سارا فروزاں ندیمؔ اب دُعا اور کیا تجھ سے مانگے ہُنر مَیں نے…

Read More

اعجاز دانش ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم

نہیں تمنا ملے ساری کائنات مجھے حضورؐ چاہیے اک چشمِ التفات مجھے تمہاری چشمِ عنایت کی جستجو میں شہا کہاں کہاں لیے پھرتی ہے یہ حیات مجھے تمہاری بات ہی تحریر کرتا رہتا ہوں تمہاری بات ہی لگتی ہے اچھی بات مجھے تمہاری یاد کے سائے میں ہو رہی ہے بسر تمہاری رحمتیں رکھتی ہیں ساتھ ساتھ مجھے وہ جس زمین پہ قدسی اترتے رہتے ہیں اسی زمین پہ مل جائے ایک رات مجھے تمہارے ذکر کا غلبہ ہے میرے دل پہ حضورؐ غموں سے دے گا یہی سلسلہ نجات…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ منقبت حضرت علیؓ

غلو کی کیا ضرورت ہے علیؓ کی مدح خوانی میں کمی ہے کون سے اعجاز کی اِس شہ کہانی میں وہ جب لب کھولتا تو حیرتوں سے دیکھتی دانش معانی کے سمندر موجزن سادہ بیانی میں ارادوں کی جوانانہ چمک پیری کے ماتھے پر بصیرت کی بزرگانہ دمک چشمِ جوانی میں عطا اس کو ہوئی تھی ایسی بینائی کہ وہ جس سے خدا کو دیکھ لے کوشش کی رمزِ رایگانی میں مقامِ بابِ شہر علم اُس کے نام ہونا تھا اک ایسا فہمِ فرقانی تھا اُس کی ترجمانی میں وہ…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ بنتا نہیں ہے حسن ستمگر شباب میں

بنتا نہیں ہے حسن ستمگر شباب میں ہوتے ہیں ابتدا ہی سے کانٹے گلاب میں جلوے ہوئے نہ جذب رخِ بے نقاب میں کرنیں سمٹ کے آ نہ سکیں آفتاب میں بچپن میں یہ سوال قیامت کب آئے گی بندہ نواز آپ کے عہدِ شباب میں صیاد آج میرے نشیمن کی خیر ہو بجلی قفس پہ ٹوٹتی دیکھی ہے خواب میں آغازِ شوق دید میں اتنی خطا ہوئی انجام پر نگاہ نہ کی اضطراب میں اب چھپ رہے ہو سامنے آ کر خبر بھی ہے تصویر کھنچ گئی نگہِ انتخاب…

Read More