بہار
۔۔۔۔۔۔
کبھی میں نے
محبت کے پرندوں کی
نوا سنجی سے
گھر خالی
نہیں دیکھا
کہاں کس نے
دوامی مہربانی کا
ہنر عالی
نہیں دیکھا
رہے غافل
گلستاں سے
کوئی بیدار خو
خالی نہیں دیکھا
لگائو ہے
لگن رب کی
صفاتی
دلبری
جس کو
سدا میں نے
بروئے کار دیکھا ہے
محبت کو
بہار آثار دیکھا ہے
Related posts
-
راحت اندوری
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا... -
ڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد
روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر... -
جلیل عالی ۔۔۔ سامانِ شگفتِ جاں
سامانِ شگفتِ جاں ۔۔۔۔ مرے جاں تاب مہتابو! تمہاری زندگانی کی ہلالی رُت بڑی شدت سے...
