گلزار بخاری ۔۔۔۔ مسافتوں کا فلک ستارے کا منتظر ہے

مسافتوں کا فلک ستارے کا منتظر ہے
سفر کا موسم ترے اشارے کا منتظر ہے

اسی لیے ہم زباں پہ لائے ہیں ذکر تیرا
بیان کا حسن استعارے کا منتظر ہے

روا نہیں مصلحت پسندی تری طلب میں
خلوص اپنے لیے خسارے کا منتظر ہے

تری نظر کی تپش سے شعلے بھڑک نہ جائیں
بدن کا ایندھن کسی شرارے کا منتظر ہے
تلاش کرتے ہیں خواب تعبیر اپنی اپنی
صدف گہر کا، سفینہ دھارے کا منتظر ہے

تجھے تو گلزار پار کرنا تھا دوسروں کو
مگر تو اپنے لیے کنارے کا منتظر ہے

Related posts

Leave a Comment