راستی کا سفر
۔۔۔۔۔۔۔۔
سچ ہے زورآوروں کے پہرے میں
سامنے کس طرح کی بستی ہے
سرنگوں شر کے سامنے دیکھی
زندگی خیر کو ترستی ہے
جرم سے پیشتر سزا کا نفاذ
ہے یہ پہچان کس قبیلے کی
خود پرستی کے اس خرابے میں
جرم ہے آئنہ دکھانا بھی
جاں کریں تجھ پہ ہم فدا لیکن
تو اسیر ایسے موسموں میں ہوا
جب ہے انصاف خود کٹہرے میں
Related posts
-
شاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا
دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو... -
امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد
حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ... -
ضد ۔۔۔ پروین شاکر
ضد ۔۔۔۔ میں کیوں اُس کو فون کروں! اُس کے بھی تو علم میں ہو گا...
