راستی کا سفر
۔۔۔۔۔۔۔۔
سچ ہے زورآوروں کے پہرے میں
سامنے کس طرح کی بستی ہے
سرنگوں شر کے سامنے دیکھی
زندگی خیر کو ترستی ہے
جرم سے پیشتر سزا کا نفاذ
ہے یہ پہچان کس قبیلے کی
خود پرستی کے اس خرابے میں
جرم ہے آئنہ دکھانا بھی
جاں کریں تجھ پہ ہم فدا لیکن
تو اسیر ایسے موسموں میں ہوا
جب ہے انصاف خود کٹہرے میں
Related posts
-
غلام حسین ساجد ۔۔۔ خاک کی کیمیا
خاک کی کیمیا آسماں جاگتا ہے یا سویا ہوا ہے زمیں زاد ہوں میں، مجھے ایسے... -
اختر عثمان ۔۔۔ شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام
شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام جب تشنگی کمال ہوئی شیرخوار کو شبنم کی یاد آنے... -
شاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا
دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو...
