وہاں سب اجنبی ہونگے
مسلسل ڈھونڈتے رہ جائیں گے
قوم اپنے رہبر کو
کوئی امت پیمبر کو
کئی ماں باپ بچوں کو
کوئی بھائی بہن کو
دوست یاروں کو
محبت کرنے والے اپنے پیاروں کو
کوئی بھی مل نہ پائے گا
پر اس عالم میں بھی
پہچان کر تجھکو
میں تیرا ہاتھ بڑھ کر تھام لوں گا
Related posts
-
راحت اندوری
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا... -
ڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد
روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر... -
جلیل عالی ۔۔۔ سامانِ شگفتِ جاں
سامانِ شگفتِ جاں ۔۔۔۔ مرے جاں تاب مہتابو! تمہاری زندگانی کی ہلالی رُت بڑی شدت سے...
