وہاں سب اجنبی ہونگے
مسلسل ڈھونڈتے رہ جائیں گے
قوم اپنے رہبر کو
کوئی امت پیمبر کو
کئی ماں باپ بچوں کو
کوئی بھائی بہن کو
دوست یاروں کو
محبت کرنے والے اپنے پیاروں کو
کوئی بھی مل نہ پائے گا
پر اس عالم میں بھی
پہچان کر تجھکو
میں تیرا ہاتھ بڑھ کر تھام لوں گا
Related posts
-
جلیل عالی ۔۔۔ سامانِ شگفتِ جاں
سامانِ شگفتِ جاں ۔۔۔۔ مرے جاں تاب مہتابو! تمہاری زندگانی کی ہلالی رُت بڑی شدت سے... -
ارشد محمود ارشد ۔۔۔ دو غزلیں
عمر گزری ہے اسی طور ہماری ساری زندگی خاک نشینی میں گزاری ساری بغض و نفرت... -
فرہاد ترابی ۔۔۔ ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں
ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں ہم پہ الزام ہے ہم خواب نہیں...
