وہاں سب اجنبی ہونگے
مسلسل ڈھونڈتے رہ جائیں گے
قوم اپنے رہبر کو
کوئی امت پیمبر کو
کئی ماں باپ بچوں کو
کوئی بھائی بہن کو
دوست یاروں کو
محبت کرنے والے اپنے پیاروں کو
کوئی بھی مل نہ پائے گا
پر اس عالم میں بھی
پہچان کر تجھکو
میں تیرا ہاتھ بڑھ کر تھام لوں گا
Related posts
-
سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام ۔۔۔۔ شاہد ذکی
سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام مہتابِ محرم کی قسم کم نہيں ہوتا صدياں ہوئيں... -
جوہرِ عباس ۔۔۔ بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں
بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں کاشف الکربؑ کی دہلیز پہ جُھک جاتے... -
راحت اندوری
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا...
