استاد قمر جلالوی ۔۔۔ بنتا نہیں ہے حسن ستمگر شباب میں

بنتا نہیں ہے حسن ستمگر شباب میں ہوتے ہیں ابتدا ہی سے کانٹے گلاب میں جلوے ہوئے نہ جذب رخِ بے نقاب میں کرنیں سمٹ کے آ نہ سکیں آفتاب میں بچپن میں یہ سوال قیامت کب آئے گی بندہ نواز آپ کے عہدِ شباب میں صیاد آج میرے نشیمن کی خیر ہو بجلی قفس پہ ٹوٹتی دیکھی ہے خواب میں آغازِ شوق دید میں اتنی خطا ہوئی انجام پر نگاہ نہ کی اضطراب میں اب چھپ رہے ہو سامنے آ کر خبر بھی ہے تصویر کھنچ گئی نگہِ انتخاب…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ بیاں جو حشر میں ہم وجہ آرزو کرتے

تری گلی میں بیاں کس سے آرزو کرتے کسی کو جانتے ہوئے تو گفتگو کرتے لحد میں جا کے بھی ہم مئے کی جستجو کرتے فرشتے پوچھتے کچھ، ہم سبو سبو کرتے حفاظتِ گل و غنچہ نہ چار سو کرتے اگر یہ خار نہ احساسِ رنگ و بو کرتے قفس میں کیسے بیاں حالِ رنگ و بو کرتے پروں کی خیر مناتے کہ گفتگو کرتے یہاں نمازِ جنازہ ہے ختم ہونے کو حضور ہیں کہ ابھی تک نہیں وضو کرتے بہار دیکھ کے کیا کیا ہنسے ہیں دیوانے کہ پھول…

Read More

شاہین عباس

بازا ر میں اجنبی ہوں یعنی پھولوں کی دکان دیکھتا ہو ں

Read More

شاہین عباس

سننے والوں میں اِتنا پردہ ہے کوئی سنتا نہیں کسی کا شور

Read More

شاہین عباس

 یوں جو دروازے بج رہے ہیں یہاں گھر سے اُٹھّاہے بے گھری کا شور

Read More

جوش ملسیانی

مقبول ہوں نہ ہوں یہ مقدر کی بات ہے سجدے کسی کے در پہ کیے جا رہا ہوں میں

Read More