تری گلی میں بیاں کس سے آرزو کرتے کسی کو جانتے ہوئے تو گفتگو کرتے لحد میں جا کے بھی ہم مئے کی جستجو کرتے فرشتے پوچھتے کچھ، ہم سبو سبو کرتے حفاظتِ گل و غنچہ نہ چار سو کرتے اگر یہ خار نہ احساسِ رنگ و بو کرتے قفس میں کیسے بیاں حالِ رنگ و بو کرتے پروں کی خیر مناتے کہ گفتگو کرتے یہاں نمازِ جنازہ ہے ختم ہونے کو حضور ہیں کہ ابھی تک نہیں وضو کرتے بہار دیکھ کے کیا کیا ہنسے ہیں دیوانے کہ پھول…
Read MoreCategory: Uncategorized
شاہین عباس
بازا ر میں اجنبی ہوں یعنی پھولوں کی دکان دیکھتا ہو ں
Read Moreشاہین عباس
سننے والوں میں اِتنا پردہ ہے کوئی سنتا نہیں کسی کا شور
Read Moreشاہین عباس
یوں جو دروازے بج رہے ہیں یہاں گھر سے اُٹھّاہے بے گھری کا شور
Read Moreجوش ملسیانی
مقبول ہوں نہ ہوں یہ مقدر کی بات ہے سجدے کسی کے در پہ کیے جا رہا ہوں میں
Read Moreشاہین عباس
داستاں میں جہاں اک دائمی دن ہو تا تھا اب وہاں شام اُتر آتی ہے کرداروں پر
Read Moreظفر اقبال
چلو ، کچھ اس کی توجہ ادھر ہوئی تو سہی وہ اب کی بار بہت بدگماں دکھائی دیا
Read Moreظفر اقبال
کیا تماشا ہے کہ صبح و شام رازِ آسماں خاک پر کھلتا ہے لیکن سربسر کھلتا نہیں
Read Moreظفر اقبال
ممکن ہے صد ہزار سُخن اس کی بزم میں کرنے اور بات نہ کرنے کے درمیاں
Read Moreظفر اقبال
زباں کھینچی گئی جس بات پر حلقوم کی حد تک ہمیں معلوم تھی وہ صرف نامعلوم کی حد تک
Read More