استاد قمر جلالوی ۔۔۔ بیاں جو حشر میں ہم وجہ آرزو کرتے

تری گلی میں بیاں کس سے آرزو کرتے کسی کو جانتے ہوئے تو گفتگو کرتے لحد میں جا کے بھی ہم مئے کی جستجو کرتے فرشتے پوچھتے کچھ، ہم سبو سبو کرتے حفاظتِ گل و غنچہ نہ چار سو کرتے اگر یہ خار نہ احساسِ رنگ و بو کرتے قفس میں کیسے بیاں حالِ رنگ و بو کرتے پروں کی خیر مناتے کہ گفتگو کرتے یہاں نمازِ جنازہ ہے ختم ہونے کو حضور ہیں کہ ابھی تک نہیں وضو کرتے بہار دیکھ کے کیا کیا ہنسے ہیں دیوانے کہ پھول…

Read More

شاہین عباس

بازا ر میں اجنبی ہوں یعنی پھولوں کی دکان دیکھتا ہو ں

Read More

شاہین عباس

سننے والوں میں اِتنا پردہ ہے کوئی سنتا نہیں کسی کا شور

Read More

شاہین عباس

 یوں جو دروازے بج رہے ہیں یہاں گھر سے اُٹھّاہے بے گھری کا شور

Read More

جوش ملسیانی

مقبول ہوں نہ ہوں یہ مقدر کی بات ہے سجدے کسی کے در پہ کیے جا رہا ہوں میں

Read More

ظفر اقبال

زباں کھینچی گئی جس بات پر حلقوم کی حد تک ہمیں معلوم تھی وہ صرف نامعلوم کی حد تک

Read More