اقبال صفی پوری ۔۔۔ کثرتِ جلوہ سے چشمِ شوق کس مشکل میں ہے

کثرتِ جلوہ سے چشمِ شوق کس مشکل میں ہے اتنی شمعیں کب ہیں جتنی روشنی محفل میں ہے چشمِ حیراں کو کوئی جلوہ نظر آتا نہیں دل کی بیتابی یہ کہتی ہے کہ وہ محفل میں ہے شوق کی دیوانگی طے کر گئی کتنے مقام عقل جس منزل پہ تھی اب تک اسی منزل میں ہے دل نہ شامل ہو تو پھر تنہا خروشِ ساز کیا وہ تڑپ نغمے میں کب ہے جو شکستِ دل میں ہے ایک اندازِ تبسم میں ہے گم سارا چمن یہ خبر کس کو، کلی…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ حلقۂ دل سے نکل‘ وقت کی فرہنگ میں کھل

غزل حلقۂ دل سے نکل‘ وقت کی فرہنگ میں کھل اے مرے خواب! کسی عکسِ صدا رنگ میں کھل اے مرے رہروِ جاں! کس نے کہا تھا تجھ کو آنکھ سے دل میں اُتر‘ درد کے آہنگ میں کھل اے مری خامشیِ کرب نما خود سے نکل تجھ کو کھلنا ہے تو دشمن کے دلِ تنگ میں کھل اے لہو ہوتی ہوئی موجِ غمِ ہجر ذرا خیمۂ خاک سے چل اور رگِ سنگ میں کھل ایک لمحے کی پس و پیش بھی ہوتی ہے بہت اب تو اے جذبۂ صد…

Read More

امیر خسرو ۔۔۔ پہیلی

ایک نار بھنورا سی کالی کان نہیں وہ پہنے بالی ناک نہیں وہ سونگھے پھول جتنا عرض اتنا ہی طول

Read More

امیر خسرو ۔۔۔ گیت

سب سکھیوں میں چادر میری میلی دیکھیں ہنس ہنس ناری اب کے بہار چادر میری رنگ دے پیا رکھ لے لاج ہماری صدقہ باب گنج شکر کا رکھ لے لاج ہماری قطب فریدل آئے براتی خسرو راج دلاری کوئی ساس کوئی نند سے جھگڑے ہم کو آس تمہاری رکھ لے لاج ہماری نظام رکھ لے لاج ہماری

Read More

امیر خسرو ۔۔۔ ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں

ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ سکھی! پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردِ تسکیں کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں بحقِّ…

Read More

امیر خسرو ۔۔۔ بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی

بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی کیسے میں بھر لاؤں مدھوا سے مٹکی پانی بھرن کو جو میں گئی تھی دوڑ ، جھپٹ ، موری مٹکی پھٹکی بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی مورے اچھے نظام پیا جی

Read More

سعادت یار خان رنگین

عقل و ہوش اپنے کا رنگیں ہو گیا سب اور رنگ کشورِ دل میں جب آ کر عشق کے تھانے ہوئے

Read More

امیر خسرو ۔۔۔ جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر جب آنکھ سے اوجھل بھیا، تڑپن لگا میرا جِیا حقّا الہٰی کیا کیا، آنسو چلے بھر لائے کر توں تو ہمارا یار ہے ، تجھ پر ہمارا پیار ہے تجھ دوستی بسیار ہے ، اِک شب ملو تم آئے کر جاناں طلب تیری کروں ، دیگر طلب کس کی کروں تیری جو چنتا دل دھروں ، اک دن ملو تم آئے کر میرا جو من تم نے لیا ، تم نے اُٹھا…

Read More

امیر خسرو ۔۔۔ گیت

کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے کاہے کو بیاہی بدیس بھائیوں کو دیے محلے دو محلے ہم کو دیا پردیس کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل! کاہے کو بیاہی بدیس ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گائیاں جد ہانکے ، ہنک جائیں ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں گھر گھر مانگی جائیں ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چریاں بھور بھئے اڑ جائیں ٹاکوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں چھوٹا سہیلی کا ساتھ کوٹھے تلے سے پالکی نکلی بیرن نے کھائے پشاد…

Read More