میری ایذا میں خوشی جب آپ کی پاتے ہیں لوگ تو مجھے کس کس طرح سے آ کے دھمکاتے ہیں لوگ
Read MoreCategory: Uncategorized
وزیر آغا ۔۔۔ درماندہ
درماندہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رس بھرا لمحہ نہ جانے کن کٹھن راہوں سے ہو کر آج میرے تن کے اس اندھے نگر میں ایک پل مہماں ہوا رس بھرا لمحہ سمے کی شاخ سے ٹوٹا مری پھیلی ہوئی جھولی میں گر کر آج میرا ہو گیا یک بیک قرنوں کے ٹھہرے کارواں نے جھرجھری لی چل پڑا رس بھرے لمحے کا محمل اونٹنی کی پشت پر مچلا سنہری گھنٹیوں نے چیخ کر مجھ سے کہا تو رہ گیا
Read Moreمسکراہٹ کا بیج … مظفر حنفی
مسکراہٹ کا بیج ………………….. کس جگہ میں نے اس کو دیکھا تھا کون سا ماہ کون سا دن تھا یاد اس کے سوا نہیں کچھ بھی کار زن سے نکل گئی تھی مگر کار سے جھانکتا ہوا چہرہ دیکھ کر مجھ کو مسکرایا تھا جانے کیا بات ہے کہ میں جب بھی جس جگہ بھی اداس ہوتا ہوں کار سے جھانکتا ہوا چہرہ یاد آتا ہے مسکراتا ہے اور میں مسکرانے لگتا ہوں
Read Moreفریادی ماتم ۔۔۔ آشفتہ چنگیزی
فریادی ماتم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدائے لم یزل کی بارگاہ میں سر بہ سجود انا کی چوکھٹوں میں جڑے چہروں والے لوگ پیشانیوں پر گٹے ڈالنے میں مصروف ہیں آٹے میں سنی مٹھیاں ان کی بخشش کی ضمانت ہیں یہ کون سی جنتِ نعیم ہے جس کا راستہ چیونٹیوں کی بانبی سے ہو کر گزرتا ہے دربانوں اور کتوں کو کھلی آزادی ہے ‘جاگتے رہو’ کی صدائیں عنایتوں کا خراج وصول کرتے نہیں تھکتی ہیں سرکس کا پنڈال کھچا کھچ بھرا ہے میمنوں کے باڑے میں سہما دبکا۔۔۔گھاس کھاتا شیر کیسا بے…
Read Moreاجنبی ۔۔۔ آفتاب اقبال شمیم
اجنبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لڑکا شاہزادہ سا جسے بے نام خوشبوؤں کی آوازیں تصّور کی زمینوں میں سدا آوارہ رکھتی تھیں جسے گھر سے گلی سے مدرسے تک تربیت نے قاعدے کی تال پر چلنا سکھایا تھا وہ کنجِ خواب کا حجلہ نشیں خواہش کے روزن سے سمندر کے اُفق پر دیکھتا تھا خواب اُڑتے بادبانوں کے تمسخر روشنی کا دن کے چہرے پر وہ لڑکا شاہزادہ سا جسے بے رشتہ رہنا تھا ہمیشہ شہرِ اشیا کی ثقافت میں کسے رعنائیاں اپنی دکھاتا کس پہ کشفِ دلبری کرتا کسے پہچانتا کیسے…
Read Moreوزیر آغا ۔۔۔ کوہ ندا
کوہ ندا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح سویرے ایک لرزتی کانپتی سی آواز آتی ہے سونے والو! تم مالک کو بھول گئے ہو تم مالک کو بھول گئے ہو پھر چمکیلی مل کا سائرن ایک غلیظ ڈرانے والی تند صدا کے روپ میں ڈھل کر دیواروں سے ٹکراتا ہے اور گلیوں کے تنگ اندھیرے باڑے میں کہرام مچا کر بھیڑوں کے گلے کو ہانک کے لے جاتا ہے پھر انجن کی برہم سیٹی میخ سی بن کر میرے کان میں گڑ جاتی ہے اور شب بھر کی نچی ہوئی اک ریل کی بوگی…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ اُس نے بھی جو زہریلے دشمن پر اب کے جھپٹا ہے
اُس نے بھی جو زہریلے دشمن پر اب کے جھپٹا ہے سانپ کو ہاتھ میں پکڑا پر ڈھیلے انداز سے پکڑا ہے جتنے ہم مسلک تھے اُس کے کیا کیا اُس سے دُور ہوئے دنیا نے اک جسم کو یوں بھی ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے اور تو امّ الحرب کو ہم عنوان نہیں کچھ دے سکتے ہاں خاشاک نے دریا کو چالیس دنوں تک روکا ہے ماجد جھُکتے سروں سے آخر یہ اِک بات بھی سب پہ کھلی کھٹکا ہے تو نفقہ و نان کا ہم ایسوں کو کھٹکا ہے
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ دکھ کا احساس نہ مارا جائے
دکھ کا احساس نہ مارا جائے آج جی کھول کے ہارا جائے ان مکانوں میں کوئی بھوت بھی ہے رات کے وقت پکارا جائے سوچنے بیٹھیں تو اس دنیا میں ایک لمحہ نہ گزارا جائے ڈھونڈتا ہوں میں زمیں اچھی سی یہ بدن جس میں اتارا جائے ساتھ چلتا ہوا سایہ اپنا ایک پتھر اسے مارا جائے ہم یگانہ تو نہیں ہیں علوی ناؤ جائے کہ کنارا جائے
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹ
دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹ پھر چوٹ بھی وہ چوٹ جو ہے بے پناہ چوٹ پھوڑا سر اس کے در سے کہ برسے جنوں میں سنگ مجھ کو دلا رہی ہے عجب اشتباہ چوٹ بجلی کا نام سنتے ہی آنکھیں جھپک گئیں روکے گی میری آہ کی کیا یہ نگاہ چوٹ لالچ اثر کا ہو نہ کہیں باعثِ ضرر ٹکرا کے سر فلک سے نہ کھا جائے آہ چوٹ منہ ہر دہانِ زخم کا سیتے ہیں اس لیے مطلب ہے حشر میں بھی نہ ہو داد…
Read Moreسید آلِ احمد
تم آ گئے تو لب پہ تبسم بھی آ گیا ورنہ تو شام ہی سے مرا دل اُداس تھا
Read More