سید آلِ احمد

تم آ گئے تو لب پہ تبسم بھی آ گیا ورنہ تو شام ہی سے مرا دل اُداس تھا

Read More

لالہ مادھو رام جوہر

وہ چھپایا کریں اس بات سے کیا ہوتا ہے آپ سر چڑھ کے پکارے گی جو الفت ہوگی

Read More

Youm-e-Takbeer: Celebrating Pakistan’s Bold Nuclear Legacy

Today, Pakistan commemorates Youm-i-Takbeer, the historic day in 1998 when the nation emerged as a nuclear power, joining the exclusive club of nuclear-armed countries. On this day, Pakistan became the seventh nuclear nation and the first Muslim state to possess a nuclear arsenal. A day earlier, Prime Minister Shehbaz Sharif declared a public holiday, setting the stage for nationwide celebrations. The day began with special prayers and recitations of the Holy Quran in mosques across the country, seeking peace and prosperity for Pakistan, reported state-run Radio Pakistan. A Historic Achievement…

Read More

کشور ناہید ۔۔۔ افسوس ناک خبروں کا سلسلہ

کچھ دن ہوئے میری کتاب کے مترجم ڈاکٹر سفیر اعوان اپنے مکمل کیے ہوئے صفحات کو فائنل ٹچ دے رہے تھے۔ انہوں نے فون پر پوچھا ایک شہر کا نام سمجھ ہی نہیں آرہا۔ انہوں نے جب بتایا تو میں نے کہا ’’یہ بشکیک ہے‘‘ بہت سے پاکستانیوں کو سنٹرل ایشیا کے ممالک میں سے چند کے نام آتے ہیں۔ بشکیک کرغستان کا دارالحکومت ہے۔ میں نے اس شہر کا دو تین دفعہ سفر کیا ہے پہلے تو جب وہ روس کا حصہ تھا، آزاد ملک کی حیثیت میں بھی دو دفعہ مگر…

Read More

رضی اختر شوق ۔۔۔ کیسے جیئیں قصیدہ گو، حرف گروں کے درمیاں

کیسے جیئیں قصیدہ گو، حرف گروں کے درمیاں کوئی تو سر کشیدہ ہو، اتنے سروں کے درمیاں ایک طرف میں جاں بہ لب ، تارِ نَفس شکستنی بحث چھڑی ہوئی اُدھر، چارہ گروں کے درمیاں ہاتھ لئے ہیں ہاتھ میں، پھر بھی نظر ہے گھات میں ہمسفروں کی خیر ہو، ہمسفروں کے درمیاں اُس کا لکھا کچھ اور تھا، میرا کہا کچھ اور ہے بات بدل بدل گئی، نامہ بروں کے درمیاں جامِ سفال و جامِ جم، کچھ بھی تو ہم نہ بن سکے اور بکھر بکھر گئے ، کُوزہ…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ قطعہ

یہ مانا برق کے شعلے مرا گھر پھونک کر جاتے مگر کچھ حادثے پھولوں کے اوپر بھی گزر جاتے مرے کہنے سے گر اے ہم قفس خاموش ہو جاتا نہ تیرے بال و پَر جاتے نہ میرے بال و پر جاتے

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ سرِ شام تجھ سے ملنے ترے در پہ آ گئے ہیں

سرِ شام تجھ سے ملنے ترے در پہ آ گئے ہیں یہ وہیں ہیں لوگ شاید جو فریب کھا گئے ہیں میں اگر قفس سے چھوٹا تو چلے گی باغباں سے جہاں میرا آشیاں تھا وہاں پھول آ گئے کوئی ان سے جا کہ کہہ دے سرِ بام پھر تجلی جنہیں کر چکے ہو بے خود انھیں ہوش آ گئے ہیں یہ پتہ بتا رہے ہیں رہِ عشق کے بگولے کہ ہزاروں تم سے پہلے یہاں خاک اڑا گئے ہیں شبِ ہجرِ شمع گل ہے مجھے اس سے کیا تعلق…

Read More