دلی کے بیچ ہائے اکیلے مریں گے ہم تم آگرے چلے ہو سجن، کیا کریں گے ہم
Read MoreTag: شاعر
آصف الدولہ ۔۔۔ جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے
جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے ہم نے جانا کہ دو جہاں سے گئے تیرے کوچے میں نقشِ پا کی طرح ایسے بیٹھے کہ پھر نہ واں سے گئے شمع کی طرح رفتہ رفتہ ہم ایسے گزرے کہ جسم و جاں سے گئے ایک دن میں نے یار سے یہ کہا اب تو ہم طاقت و تواں سے گئے ہنس کے بولا کہ سن لے اے آصف! یہی کہہ کہہ کے لاکھوں جاں سے گئے
Read Moreآفتاب شاہ عالم ثانی
اُس رشکِ مہ کی بزم میں جاتے ہی آفتاب دل سا رفیق میرا، مرے سات سے گیا
Read Moreابوالحسن تانا شاہ
اے سروِ گل بدن تو ذرا ٹک چمن میں آ جیوں گل شگفتہ ہو کے مری انجمن میں آ
Read Moreآباد لکھنوی
اڑاؤں کیوں نہ گریباں کی دھجیاں ہیہات وہی یہ ہاتھ ہیں جن میں کسی کا دامن تھا
Read Moreبال مکند بے صبر
یوں وہ پردے میں پھرتے چلتے ہیں جیسے بدلی میں آفتاب چلے
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ غلام حسین ساجد
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سیّد الانبیاء آپ خیرالورا، اے رسولِ خدا، اے حبیبِ خدا آپ کی روشنی سے مُنّور ہُوا، میرے دل کا دِیا، اے حبیبِ خدا سبز گنبد کے سائے میں آتے ہوئے کچھ چراغوں کی سوغات پاتے ہوئے میرے لب پر فقط آپ کا نام تھا، بَر بنائے شفا، اے حبیبِ خدا ظلمتِ دہر کو چاک کرتے ہوئے، کعبۃُ اللہ کو پاک کرتے ہوئے آپ کے خلق سے آئنہ بن گیا، قلب ہر شخص کا، اے حبیبِ خدا آپ کے واسطے یہ زمانے بَنے، کہکشائیں…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا
کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا سو مَیں جمالِ شبِ خواب سے دوبارہ مِلا نہیں تو اپنے ہی سائے پہ گِر پڑی ہوتی مِرے وجود سے دیوار کو سہارا مِلا پلٹ کے دیکھنا ممکن نہیں کہ وحشت میں کہاں کسی کو کسی یاد کا کنارا مِلا کسی طرح مجھے تقسیم کر دیا اُس نے کسی کو آدھا مِلا اور کسی کو سارا مِلا تمام رات جب آنکھوں میں کاٹ لی مَیں نے سحر کے وقت مجھے کوچ کا اشارہ مِلا عدو پہ فتح کی ساعت قریب جب آئی مِرا…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ حصارِ خواب سے باہر مِرا دھواں پہنچا
حصارِ خواب سے باہر مِرا دھواں پہنچا مَیں رات نیند میں چلتے ہوئے کہاں پہنچا مِرے عمل نے مِرے روز و شب بدل ڈالے مجھے تو اپنی تگ و تاز سے زیاں پہنچا کسی بِچھڑتے ہوئے خواب کی رفاقت کو مِرے یقین سے پہلے مِرا گماں پہنچا تمام رات درختوں نے انتظار کِیا پرندے لَوٹ کر آئے نہ کارواں پہنچا کسی نے ساری طلسمات کو بدل ڈالا مَیں بامِ یار تلک جب بھی پَرفشاں پہنچا مجھے تو وقت سے پہلے وہاں پہنچنا تھا مگر مَیں اور بھی تاخیر سے وہاں…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیں
شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیں تم سلامت رہو ہم تو یہ دعا کرتے ہیں پھر مرے دل کے پھنسانے کی ہوئی ہے تدبیر پھر نئے سر سے وہ پیمان وفا کرتے ہیں تم مجھے ہاتھ اٹھا کر اس ادا سے کوسو دیکھنے والے یہ سمجھیں کہ دُعا کرتے ہیں ان حسینوں کا ہے دنیا سے نرالا انداز شوخیاں بزم میں خلوت میں حیا کرتے ہیں حشر کا ذکر نہ کر اس کی گلی میں واعظ ایسے ہنگامے یہاں روز ہوا کرتے ہیں لاگ ہے ہم سے…
Read More