جھیل جیسی مجھے لگیں آنکھیں حال مجھ سے مِرا کہیں آنکھیں اُس کی خوشبو سمٹنے لگتی ہے مُجھ سے جب گفتگو کریں آنکھیں یہ مِری روح کی امانت ہیں دُکھ جہاں بھر کے کیوں سہیں آنکھیں ایک دوجے سے کیسے ملنا ہے مُجھ سے چھُپ چھُپ کے یہ کہیں آنکھیں دِل کی حالت عجیب ہوتی ہے آگ کی طرح جب جلیں آنکھیں حالِ دِل کی اُنھیں خبر ہو جائے وُہ اگر غور سے پڑھیں آنکھیں کاش یہ معجزہ بھی ہو جائے میری جانب تِری بڑھیں آنکھیں تاک میں ہوں میں…
Read MoreTag: تاثیر نقوی
تاثیر نقوی ۔۔۔ سکوت ِ شب میں جب دیکھوں تو ہر سو تو نظر آئے
سکوت ِ شب میں جب دیکھوں تو ہر سو تو نظر آئے کہ جیسے میرے آنگن کی طرف شمس و قمر آئے یہاں تاریکیوں کا راج ہے جس سمت بھی دیکھوں گْلوں کی آرزو صحن ِگلستاں میں سحر آئے کرو گے کام جو اچھے ملے گا اجر بھی اْس کا وسیلہ ان کا ہو تو پھر شفاعت کی خبر آئے عمل ہوتا نہیں لیکن نمائش ساتھ چلتی ہے دعا یہ ہے کہ اپنا بھی کوئی تو راہبر آئے یہاں پر نفسانفسی کا عجب عالم نظر آیا کسی جانب سے تو…
Read More