سلمان باسط ۔۔۔ فقط نیستی ہو

فقط نیستی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی دن زمانے سے باہر ملو گر تو تم کو بتاؤں کہ کتنے فسانے ہیں جو نارسائی کے دکھ سے جُڑے ہیں تمہیں یہ بتاؤں یہ جینا بھی انفاس کی آمدو شد نہیں ہے یہ اک دھونکنی ہے جو بس چل رہی ہے چلی جا رہی ہے بڑی کج روی سےبہے جا رہا ہے مری عمرِ پیہم کا ظالم بہاؤ کسی روز آؤ مگر یوں نہ ہو تم کسی روز آؤ تو دیکھو میں دیوارِ جاں کے پرے جا بسا ہوں جہاں پر نہ تم ہو…

Read More